.

گردنیں کاٹنے والے داعش کے 'قصاب' پر امریکی فضائی حملہ

الرقہ میں نشانہ بنائے جانے والے جان جہادی کی ہلاکت کی تصدیق ابتک نہیں ہو سکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی حکام نے اطلاع دی ہے کہ ان کی ایک فوجی کارروائی میں دولت اسلامیہ "داعش" کا شام میں بدنام زنانہ "قاتل قصاب" محمد الموازی المعروف 'جان جہادی' کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ تاہم اس فضائی حملے میں ہدف بننے والے جنگجو کے ہلاک، زخمی یا بچ جانے کے حوالے سے کسی قسمی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔

امریکی عہدیداروں نے خبر رساں ایجنسی" رائیٹرز" کو بتایا کہ شام میں یرغمالیوں کی گردنیں کاٹنے کے واقعات کی ویڈیوز میں دکھائی دینے والے جنگجو محمد الموازی المعروف 'جان جہادی' کو ایک فضائی حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ شام میں دولت اسلامی کے دارالحکومت الرقہ میں ایک فضائی حملے میں جہادی جان کو نشانہ بنایا گیا ہے تاہم انٹیلی جنس ادارے اس حملے کے نتائج مرتب کر رہے ہیں۔

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے ترجمان پیٹر کک کا کہنا ہے کہ الرقہ میں جان جہادی کو ایک فضائی حملے کانشانہ بنایا گیا تاہم یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ اس حملے میں اس کاکام تمام ہوا ہے یا نہیں؟

ترجمان نے تصدیق کی جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب الرقہ میں داعش کے ایک ٹھکانے پر بمباری کی گئی تھی جس میں ممکنہ طورپر محمد الموازی موجود تھا تاہم حملے کے نتائج مرتب کیے جا رہے ہیں۔ فی الوقت اس حوالے سے کچھ کہنا قبل از وقت ہے کہ آیا جہادی جون اس حملے میں ہلاک ہوا یا نہیں۔

امریکی وزارت دفاع کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ برطانوی نژاد محمد الموازی داعش کی جانب سے جاری کی گئی کئی ویڈیوز فوٹیج میں یرٖغمالیوں کو قتل کرتے دکھایا گیا ہے۔ جہادی جون نے یرغمالی امریکی صحافی اسٹیفن سوٹلوف، جیمز فولی، امریکی امدادی کارکن عبدالرحمان کاسینگ، برطانوی امدادی کارکن ڈیوڈ ہینس، ایلن ہننگز، جاپانی صحافی کینجی غوٹو اور کئی دوسرے یرغمالیوں کو ذبح کیا اور اس کی فوٹیج بنا کر انٹرنیٹ پر پوسٹ کی گئی تھی۔

محمد الموازی کا آبائی تعلق عراق سے ہے۔ اس کے والدین سنہ 1993ء کو امریکا منتقل ہو گئے تھے۔ شام میں الرقہ میں امریکی فوج نے جہادی جون پر یہ فضائی حملہ ایک ایسے وقت میں کیا ہے جب عراق میں کرد فورسز نے الرقہ کی مرکزی سپلائی لائن کاٹ دی ہے۔ کرد فورسز نے شمالی عراق کے سنجار شہر کے بعض علاقوں کی طرف پیش قدمی کرتے ہوئے کئی اہم مقامات پر قبضہ کیا ہے اور داعش کو وہاں سے نکال دیا گیا ہے۔