.

عراقی کردوں کا سنجار کو داعش سے آزاد کرانے کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے خود مختار علاقے کردستان کے صدر مسعود بارزانی نے جمعہ کے روز ایک نیوز کانفرنس میں دعویٰ کیا ہے کہ شمالی قصبے سنجار کو داعش کے قبضے سے آزاد کرا لیا گیا ہے۔

انھوں نے یہ نیوز کانفرنس سنجار کے نواح میں واقع پہاڑی پر کی ہے اور کہا ہے کہ اس قصبے کی آزادی کے بعد موصل کو آزاد کرانے کے لیے داعش کے خلاف جنگ پر بڑے اثرات مرتب ہوں گے۔ادھر واشنگٹن میں امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے بھی اس اعتماد کا اظہار کیا ہے کہ سنجار کو چند دنوں میں آزاد کرا لیا جائے گا۔

مسعود بارزانی کے بیان سے قبل کرد سکیورٹی فورسز نے ایک بیان میں کہا تھا کہ سنجار میں اہم تنصیبات پر قبضہ کر لیا گیا ہے اور وہاں سے داعش کے شکست خوردہ جنگجو راہِ فرار اختیار کررہے ہیں۔

کردستان کی علاقائی سکیورٹی کونسل نے ایک ٹویٹ میں اطلاع دی ہے کہ البیشمرکہ نے سنجار میں گندم کے گودام ،سیمنٹ فیکٹری ،اسپتال اور متعدد دوسری عمارتوں پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

البیشمرکہ اور عراق کی یزیدی اقلیت کے رضاکاروں نے گذشتہ روز سنجار میں داعش کے خلاف بڑی مہم کا آغاز کیا تھا اور انھیں امریکا کی قیادت میں اتحادی ممالک کے لڑاکا طیاروں کی فضائی مدد بھی حاصل تھی۔انھوں نے آج سنجار سے مشرق اور مغرب کو جانے والے راستوں کو منقطع کردیا تھا۔

کردستان کونسل کا کہنا ہے کہ البیشمرکہ کے جنگجو تمام اطراف سے سنجار میں داخل ہوئے تھے اور وہ اب قصبے میں موجود داعش کے بچے کچھے جنگجوؤں کا صفایا کررہے ہیں۔کرد فورسز کے ساتھ سنجار میں داخل ہونے والے صحافیوں کا کہنا ہے کہ حملہ آور فورسز کو داعش کی کسی نمایاں مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا ہے۔

فوری طور پر یہ واضح نہیں ہے کہ داعش کے جنگجوؤں نے کرد فورسز کے آپریشن سے قبل سنجار کو خالی کردیا تھا یا انھیں واقعی لڑائی میں شکست ہوئی ہے۔بعض کرد کمانڈروں نے اس تشویش کا اظہار کیا ہے کہ داعش کے جنگجو قصبے میں عمارتوں میں چھپے ہوسکتے ہیں اور وہ البیشمرکہ کی پیش قدمی کے بعد خود کو دھماکوں سے اڑا سکتے ہیں۔

البیشمرکہ کے ایک بریگیڈئیر جنرل سیم ملا محمد کا کہنا ہے کہ ''قصبے میں داعش کے جنگجوؤں کی تعداد چھے سو کے لگ بھگ تھی لیکن جمعے تک وہ معدودے چند ہی رہ گئے تھے'' لیکن ان کے پیش کردہ ان اعداد وشمار کی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں ہے۔

کرد فورسز نے جمعرات کی صبح اس آپریشن کے آغاز کے بعد سے سنجار کے نواح میں ڈیڑھ سو مربع کلومیٹر علاقے پر قبضہ کر لیا ہے اور وہاں سے داعش کے جنگجوؤں کو پسپا کردیا ہے۔کرد فورسز نے شام کے شہر الرقہ اور عراق کے شمالی شہر موصل کے درمیان واقع شاہراہ 47 پر بھی پوزیشنیں سنبھال رکھی ہیں۔داعش کے جنگجو ان دونوں شہروں کے درمیان اسلحہ اور سامان رسد کی نقل وحمل کے لیے اس شاہراہ کو استعمال کرتے ہیں اور اس کے ذریعے ہی سفر کرتے ہیں۔