.

اسرائیلی شہری بننے پر ملکہ حسن سے مصری شہریت واپس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی حکومت نے سنہ 2009ء میں اسرائیل میں عرب ملکہ حسن کا ٹائیٹل حاصل کرنے والی دوشیزہ نجلا عبدالعاطی سلیمان کی شہریت منسوخ کر دی ہے۔ شہری منسوخی کی وجہ اس کی بغیر اجازت اسرائیل کی شہریت اختیار کرنا بتایا جاتا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مصری وزیراعظم انجینیر شرف اسماعیل نے ایک حکم نامے میں نجلا عبدالعاطی کی مصری شہریت ختم کر دی ہے جس کے بعد اب وہ مصر کی شہری نہیں رہی ہے۔

قاہرہ کے ایک سیکیورٹی ذریعے نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ نجلاء احمد عبدالعاطی کی مصری شہریت اس لیے ختم کی گئی ہے کیونکہ اس نے مصری حکومت اور وزارت داخلہ کی اجازت کے بغیر اسرائیلی شہریت حاصل کی تھی۔ سیکیورٹی ذریعے کا کہنا ہے کہ 23 سالہ نجلا سلیمان پانچ سال کی عمر میں اپنے والدین کے ہمراہ فلسطین کے سنہ 1948ء کے مقبوضہ علاقے میں جا بسی تھیں اور انہوں نے اسرائیل کی شہریت اختیار کر لی تھی۔

"نانا" کے نام سے شہرت پانے والی نجلا سلیمان کا کہنا ہے کہ میرا اصل وطن مصر ہے مگر میں حیران ہوں کہ مصری حکومت نے میری شہریت کیوں ختم کی ہے۔ حالانکہ میرے پاس مصر کا قومی شناختی کارڈ ہے اور میں نے مصری جامعات سے تعلیم حاصل کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں نے اسرائیل کا سفر اس وقت کیا جب میری عمر پانچ سال تھی۔ میری والدہ ایک فلسطینی وکیل ہیں۔ مصر سے فلسطین جانے کے بعد ہم نے ناصرہ شہر کے علین قصبے میں رہائش اختیار کی تھی۔ میرے وال ایک فیکٹری میں اکاؤنٹنٹ ڈائریکٹر کے طور پر ملازمت کرتے تھے۔

ایک سوال کے جواب میں نجلاء نے کہا کہ مجھے اسرائیل میں عرب ملکہ حسن کا لقب ملا۔ ملکہ حسن کے طور پر مجھے اسرائیلی وزرات ثقافت کی جانب سے نامزد کیا گیا تھا مگر میں نے اسرائیل کی جانب سے نہیں بلکہ عرب ممالک کی جانب سے نمائندگی کی تھی۔میرے والد نے میرے بارے میں ذاتی معلومات میں مصر کے حوالے دیے تھے۔ مجھے اسرائیل کی نمائندگی کرتے ہوئے عالمی مقابلہ حسن میں شرکت کی پیش کش کی گئی تھی مگر میں اسے قبول نہیں کیا ہے۔