.

اسرائیلی فوج نے چار فلسطینیوں کے مکان مسمار کردیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے میں چار فلسطینیوں کے مکان مسمار کردیے ہیں۔ان فلسطینیوں پر یہودیوں پر چاقوحملوں کا الزام تھا۔

اسرائیلی فورسز نے فلسطینیوں کے مکانوں مسمار کرنے کی یہ کارروائی غربِ اردن کے شہر الخلیل میں جمعہ کے روز فائرنگ کے ایک واقعے میں ایک اسرائیلی باپ ،بیٹے کی ہلاکت کے بعد کی ہے۔

اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ غربِ اردن کے شہر نابلس میں تین فلسطینیوں کے مکان مسمار کیے گئے ہیں۔ان تینوں پر یکم اکتوبر کو ایک اسرائیلی آبادکار جوڑے کو ہلاک کرنے کا الزام تھا۔

رام اللہ کے شمال مشرق میں واقع گاؤں سلواد میں اسرائیلی فوجیوں نے ایک اور فلسطینی کے مکان کو ڈھا دیا ہے۔اس فلسطینی پر جون میں غربِ اردن کی ایک شاہراہ پر ایک اسرائیلی کو ہلاک کرنے کا الزام تھا۔

ان چاروں مکانوں کو ڈھانے کی ان کارروائیوں کے دوران فلسطینی مظاہرین اور اسرائیلی فوجیوں کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں جن میں نو افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

انتہاپسند صہیونی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی حکومت نے گذشتہ ماہ چاقو حملے کرنے والے فلسطینیوں کے مکانوں کو مسمار کرنے کی منظوری دی تھی۔اسرائیلی حکومت نے اپنے طور پر تو سد جارحیت کے طور پر اس ظالمانہ اقدام کی منظوری دی تھی مگر اس کے باوجود تشدد کا سلسلہ جاری ہے۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور متنازعہ پالیسی کے ناقدین نے اسرائیل کی اس ظالمانہ پالیسی کی مذمت کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اس کے ذریعے ایک فرد کے جرم کی سزا اس کے پورے خاندان کو دی جارہی ہے۔

واضح رہے کہ یکم اکتوبر کے بعد سے مقبوضہ مغربی کنارے اور بیت المقدس میں اسرائیلی سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں اکاسی فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔ان میں نصف کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ مبینہ طور پر حملہ آور تھے اور ان کے چاقو حملوں اور فائرنگ سے بارہ اسرائیلی ہلاک ہوئے ہیں۔جمعے کے روز اسرائیلی فوجیوں کی فائرنگ سے تین فلسطینی شہید ہوگئے تھے۔