.

"ایرانی اقوام ومذاہب"۔۔۔ العربیہ کی خصوصی دستاویزی فلم

ڈاکٹومینٹری میں غیرفارسی اقوام کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا تجزیہ کیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کا سماجی تانا بانا لاتعداد اقوام اور کئی مذاہب کا چربہ ہے۔ ملک میں کئی زبانیں بولنے والے، کئی نسلوں سے تعلق رکھنے والے اور مختلف مذہبی عقائد ونظریات کے پیروکار موجود ہیں مگر پچھلے کچھ عرصے سے ایران ایک مخصوص طبقے کی سیاسی اور مذہبی اجارہ داری قائم ہے۔

العربیہ نیوز چینل نے ایران می اقوام اور مذاہب کے حوالے سے ایک ڈاکٹو مینٹری فلم تیار کی ہے جس میں یہ ثابت کیا گیا ہے کہ کثیرالقومی اور کثیرالمذہبی ملک کس طرح ایک طبقے کے ہاتھوں یرغمال بنا ہوا ہے۔

سولہویں صدی عیسوی سے سنہ 1979ء تک ایران میں صفوی مذہب اور نسل کے لوگ قابض رہے جن کی وجہ سے ایران کی شناخت ٖ"صفویوں" کے طور پر ہونے لگی۔ سنہ 1979ء کے انقلاب کے بعد ملک میں اثنیٰ عشری شیعہ گروپ کی حکومت قائم ہوئی جس نے سیاسی نظام کے لیے "ولایت فقیہ" کا اصول اپنایا اور سپریم لیڈر آیت کو اقتداراعلیٰ کا مالک قرار دے کر اختیارات کا سرچشمہ قرار دیا۔

ایران میں ایک مخصوص گروپ کی سیاسی بالادستی کے علی الرغم ایران میں دوسری اقوام بھی کسی نہ کسی شکل میں اپنا وجود برقرار رکھنے میں کامیاب رہیں، مگر مجموعی طور پر ایران کی شناخت ایک شیعہ اسٹیٹ کے طور پر کی جانے لگی۔ یہ شیعہ ریاست غیر فارسی برادریوں اور اقوام کے ساتھ نسلی امتیاز کی راہ پر چلتی رہی، جس کے نتیجے میں ایران میں غیر فارسی اور غیر شیعہ مسلک کے پیروکاروں اور ان کے مخالفین کے درمیان دیواریں کھڑی ہوئیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ایران میں اہل تشیع مسلک کے پیروکاروں کی اکثریت ہے مگر فارسی کے علاوہ دوسری زبانیں بولنے والوں کی تعداد 40 فی صد سے زیادہ ہے۔

چونکہ اہل فارس کی نسبت سے فارسی بولنے والے شیعہ مسلک کے لوگوں کو ملک میں مرکزی حیثیت حاصل رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران میں اعلی عہدوں پر فارسی بولنے والے شیعہ کو متعین کیا جاتا ہے۔ ایران میں مقیم غیر فارسی اقوام کے نسلی سلسلے آس پاس کے ملکوں بالخصوص خلیجی ریاستوں، روس، ترکی، افغانستان اور سابق سوویت یونین کی مسلمان ریاستوں اور ایشیائی جمہوری ملکوں تک پھیلے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کا موجودہ برسراقتدار طبقہ انہیں اپنے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔ اسی نام نہاد خطرے کی آڑ میں ایران کے اندر موجود غیر فارسی اقوام کو نہ صرف سیاسی اور سماجی بنیادوں پر انتقامی پالیسی کا سامنا ہے بلکہ انہیں ایک منظم حکمت عملی کے تحت کچلا جا رہا ہے۔

العربیہ چینل کے ہاں تیار کردہ دستاویزی فلم چار اجزاء پر مشتمل ہے۔ پہلے حصے میں معاصر ایران میں مذہبی اور نسلی بنیادوں پر ہونے والے امتیازی سلوک سے پردہ اٹھایا گیا ہے۔ ڈاکٹومینٹری کےاس حصے میں بتایا گیا ہے کہ ایرانی فارسی زبان بولنے والے شیعہ مسلک کے لوگ غیر شعیہ زرتشت، بہائی، عیسائی، یہودی، اسماعیلی فرقوں کے ساتھ جس طرح امتیازی برتاو کرتے ہیں۔ دوسرے حصے میں نسلی بنیادوں پر ہونے والے امتیازی سلوک کے شواہد بیان کیے گئے ہیں جس میں غیر فارسی، آذر، بلوچ، کرد اور عرب اقوام کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کی تفصیلات بیان کی گئی۔ تیسرے اور چوتھے حصے میں ایران میں مذہبی اور نسلی بنیادوں پر ہونے والے امتیازی سلوک کے داخلی اور خارجہ محرکات کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران میں نسلی اور مذہبی بنیادوں پر ہونے والی بدسلوکی کب شروع ہوئی۔ اس کے پس پردہ کیا محرکات تھے اور سیاسی بنیادوں پر غیر فارسی باشندوں کو کب سے نشانہ انتقام بنائے جانے کا سلسلہ شروع کیا گیا۔

ڈاکٹومینٹری کی تیاری میں ایرانی سماجی کارکنوں اور ایرانی امور کے ماہرین کی آراء شامل کی گئی ہیں۔ پہلے قسط کل جمعرات 19 نومبر کو، دوسری جمعہ 20، تیسری ہفتہ 21 اور چوتھی قسط اتوار 22 نومبر کو العربیہ کی اسکرین پر نشر کی جائے گی۔