.

شدت پسند جنگجو الجربا سعودی عرب میں اشتہاری قرار

الشمالی کی نشاندہی پر پانچ ملین ڈالر امریکی انعام مقرر ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے دولت اسلامی"داعش" نامی دہشت گرد گروپ کے لیے جنگجو بھرتی کرنے میں ملوث سعودی جنگجو طراد محمد الجربا کو اشتہاری قرار دیتے ہوئے اس کی گرفتاری کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔

سعودی عرب کی وزارت داخلہ کے ترجمان میجر جنرل منصور الترکی نے"العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ امریکا کی جانب سے سعودی شہریت رکھنے والے طراد محمد الجربا نامی جس شدت پسند کی گرفتاری پر پانچ ملین ڈالر کا انعام مقرر کیا ہے وہ سعودی عرب کے سیکیورٹی اداروں کو بھی مطلوب ہے۔ وہ غیرقانونی طریقے سے ملک سے باہر گیا ہے اور دولت اسلامی "داعش" میں شمولیت اختیار کی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں منصور الترکی کا کہنا تھا کہ سعودی عرب عالمی برادری کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے ناسور کو اکھاڑ پھینکنے میں سرگرم ہے۔ عالمی برادری اور سعودی عرب کے درمیان دہشت گردوں کے بارے میں معلومات کے تبادلے کا ایک مربوط نظام موجود ہے۔ ہم عالمی سیکیورٹی اداروں کو اشتہاری قرار دیے گئے شدت پسندوں کے بارے میں مکمل معلومات فراہم کرتے ہیں۔

خیال رہے کہ گذشتہ روز امریکی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں 36 سالہ سعودی شہری طراد محمد الجربا المروف ابو موسیٰ الشمالی کو شام میں سرگرم "داعش" اور القاعدہ کے لیے جنگجو بھرتی کرنے میں ملوث قرار دیتے ہوئے اس کے ٹھکانے کی نشاندہی کرنے والے کے لیے پانچ ملین امریکی ڈالر کا انعام مقرر کیا گیا تھا۔

امریکی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ابو محمد الشمالی نامی سعودی شدت پسند کا تعلق سعودی عرب سے ہے اور وہ دولت اسلامی "داعش" کے لیے جنگجو بھرتی کرنے کے بعد انہیں شام کی سرحد سے اندر بھیجنے میں سرگرم ہے۔ تنظیم کی جانب سے اسے "بارڈر چیف" کا عہدہ سونپا گیا ہے۔

امریکی حکومت نے ابو محمد الشمالی کو بلیک لسٹ کرتے ہوئے اس کے تمام اثاثے منجمد کر دیے ہیں اور اس کے سفر پر پابندی عاید کرنے کے ساتھ اس کی زندہ گرفتاری پر پانچ ملین ڈالر کی رقم مقرر کی گئی ہے۔

وزارت خارجہ کے مطابق 35 سالہ جنگجو ماضی میں اسامہ بن لادن کی تنظیم القاعدہ کے ساتھ بھی وابستہ رہ چکا ہے۔ اشتہاری قرار دیا گیا سعودی جنگجو ان دنوں ترکی سے متصل شام کے سرحدی شہر جرابلس میں مقیم ہے۔ پچھلے کئی ماہ سے وہ آسٹریلیا، یورپ اور مشرق وسطیٰ سے "داعش" میں شمولیت کے لیے آنے والے جنگجوئوں کو ان کی منزل مقصود تک پہنچانے میں مدد کر رہا ہے۔ شام میں عزاز کے مقام پر اس نے جنگجو بھرتی کا ایک مرکز بھی قائم کر رکھا ہے جہاں نئے بھرتے ہونے والوں کو عسکری تربیت بھی دی جاتی ہے۔

خیال رہے کہ امریکی وزارت خزانہ نے 29 ستمبر کو بلیک لسٹ کیے گئے 15 شدت پسندوں کی ایک فہرست جاری کی تھی۔ اس فہرست میں بھی سعودی جنگجو طراد الجربا اور ناصر محمد عواد الغیدانی الحربی کے نام بھی شامل ہیں۔

داعش کی جانب سے چند ماہ قبل سماجی رابطے کی ویب سائیٹ "فیس بک" پر پوسٹ کیے گئے بیان میں ابو محمد الشمالی کی سعودی سیکیورٹی اداروں کو مطلوب خاتون شدت پسند ریما الجریش کے ساتھ شادی کی خبر دی گئی تھی۔ ریما الجریش سنہ 2014ء کو اپنے بیٹوں کے ہمراہ اچانک غائب ہو گئی تھی۔ رواں سال جون میں سعودی عرب کے سیکیورٹی اداروں نے ریما کو اشتہاری قرار دیا تھا۔ داعش کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ریما الجریش ابو محمد الشمالی کی تیسری بیوی ہے۔