.

فلسطینی لڑکے پر وحشیانہ تشدد کی سزا کمیونٹی سروس

امریکا کا تشدد کے مجرم پولیس اہلکار کو قید کی سزا نہ دینے پر اظہارِ افسوس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے ایک فلسطینی نژاد امریکی نوعمر کو تشدد کا نشانہ بنانے والے اسرائیلی پولیس اہلکار کو صرف کمیونٹی خدمات کی سزا دیے جانے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔امریکا کا کہنا ہے کہ اس پولیس اہلکار نے فلسطینی لڑکے کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا تھا اور اس کو قید کی سزا ملنی چاہیے تھی۔

فلسطینی نوعمر طارق ابو خدیر گذشتہ سال ٹمپا، فلوریڈا سے اپنے خاندان کے ہمراہ مقبوضہ بیت المقدس آیا تھا۔اس دوران اس کے سولہ سالہ کزن کے اغوا کے بعد قتل پر احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے تھے۔اس لڑکے کو تین یہودیوں نے مقبوضہ بیت المقدس سے اغوا کرنے کے بعد بے دردی سے قتل کردیا تھا۔

احتجاجی مظاہرے کے دوران دو اسرائیلی پولیس اہلکاروں نے پندرہ سالہ طارق خدیر کو گھونسے اور ٹھڈے مارے تھے جس سے اس کا چہرہ سوج گیا تھا۔اس پر تشدد کی ویڈیو بھی منظرعام پر آئی تھی جس میں اسرائیلی پولیس اہلکاروں کو ٹھڈے اور مکے مارت ہوئے دیکھا جاسکتا تھا۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان جان کربی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''ویڈیو سے طاقت کے بے مہابا استعمال کا واضح ثبوت سامنے آیا ہے۔اب یہ دیکھنا مشکل ہے کہ اس سزا سے اس کیس میں پولیس افسر کا مکمل احتساب کیسے کیا جاسکے گا''۔

انھوں نے کہا کہ ''ہم سمجھتے ہیں کہ اسرائیل کے ریاستی پراسیکیوٹر اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرسکتے ہیں۔اس لیے ہم اس کیس کی مکمل پیروی کرتے رہیں گے''۔

اسرائیل کی عدالت نے بدھ کے روز فلسطینی نوعمر پر تشدد کے ذمے دار پولیس اہلکار کو قصور وار قرار دے کر پینتالیس روز تک کمیونٹی خدمت اور چار ماہ معطل جیل کی سزا سنائی تھی۔