.

شام میں ایرانی فوجیوں کی ہلاکتوں کا سلسلہ جاری

'یو این' کا پاسداران انقلاب سے شام سے نکل جانے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں صدر بشار الاسد کی حمایت میں لڑتے ہوئے باغیوں کے ہاتھوں ایرانی فوجیوں کی ہلاکتوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ دوسری جانب اقوام متحدہ نے ایرانی پاسداران انقلاب اور ان کی حامی ملیشیا سے شام سے نکل جانے کا مطالبہ کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے ایرانی خبر رساں اداروں کے حوالے سے اپنی رپورٹس میں بتایا ہے کہ حالیہ ایام میں تہران کو شام کے محاذ جنگ میں مزید بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ ایران کے کئی فوجی افسر، سپاہی اور مشاورتی شعبے میں معاونت کرنے والے اہلکار اور نجی ملیشیا سے تعلق رکھنے والے متعدد جنگجو ہلاک ہو گئے ہیں۔

فرانسیسی خبار"لے فیگارو" نے اپنی رپورٹ میں شام میں ایرانی فوجیوں کی ہلاکتوں میں اضافے کو خوفناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ شام ایرانی فوجیوں کا قبرستان بن چکا ہے۔

ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق حال ہی میں شام میں پاسداران انقلاب کے عہدیدار اور فوج میں مبلغ کی خدمات انجام دینے والے صالح حسن زادہ باغیوں کے حملے میں ہلاک ہوئے۔

سنہ 2011ء کے بعد شام میں کسی اہم ایرانی عالم دین کی ہلاکت کا یہ پہلا واقعہ ہے۔ ملا حسن زادہ کی ہلاکت کے بعد شام میں گذشتہ ایک ماہ کے دوران ہلاک ہونے والے ایران کے سرکاری اور نیم سرکاری فوجیوں کی تعداد 57 تک جا پہنچی ہے۔ اطلاعات کے مطابق حسن زادہ کو اللاذقیہ کےمحاذ پر ہلاک کیا گیا۔ اللاذقیہ، حماۃ اور حلب میں ایران نے اپنے 2000 فوجی اور جنگجو تعینات کر رکھے ہیں۔

ایران، روس کی مداخلت کے خلاف قرارداد

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق شام میں ایرانی فوجیوں کی ہلاکتوں کے تازہ واقعات ایک ایسے وقت میں وقوع پذیر ہوئے ہیں جب دوسری جانب اقوام متحدہ نے شام میں روس اور ایران کی فوجی مداخلت کی مذمت کرتے ہوئے تہران سے اپنی فوج شام سے نکالنے کا مطالبہ کیا ہے۔ جمعرات کو جنرل اسمبلی کے اجلاس میں سعودی عرب کی جانب سے ایک قرارداد پیش کی گئی جس میں شام میں ایرانی فوج، حزب اللہ اور دیگر نجی ملیشیا کی مداخلت کی شدید مذمت کی گئی تھی۔

خبر رساں ایجنسی "رائیٹرز" کے مطابق جنرل اسمبلی کی 193 ارکان پر مشتمل کمیٹی نمبر 3 نے سعودی عرب کی جانب سے پیش کردہ قراررداد منظور کرتے ہوئے ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ شام سے اپنی فوجیں باہر نکالے۔ اگرچہ جنرل اسمبلی میں پیش کردہ قرارداد کسی ملک کو پابند نہیں کر سکتی مگراس سے عالمی اجتماعی فیصلوں کی عکاسی ہوتی ہے۔ سعودی عرب کی قرارداد کی تیاری میں قطر، دیگر عرب ممالک اور امریکا نے بھی معاونت کی۔ رائے شماری کے وقت 115 ملکوں نے قرارداد کی حمایت، 15 نے مخالفت میں ووٹ ڈالا جب کہ 51 ممالک نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔

شام پاسداران انقلاب کا قبرستان

شام میں تواترکے ساتھ ایرانی فوج اور ایران سے لائے گئے اجرتی قاتلوں کی ہلاکتوں پر فرانسیسی اخبار"لوفیگارو" نے ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں شام کو ایران فوج اور ملیشیا کا قبرستان قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایرانی فوج شام میں اہل سنت کی قوتوں کو طاقت کے حصول سے روکنے کے لیے اپنی فوجی طاقت کا استعمال کر رہا ہے۔

فرانسیسی اخبار کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شام کے محاذ جنگ پرایران کو روزانہ اپنے فوجیوں کی جانیں قربان کرنا پڑ رہی ہیں، صرف ایک ماہ میں شام میں چالیس سے زائد ایرانی فوجی ہلاک ہوچکے ہیں۔ ان میں 14 سینئر افسر شامل ہیں۔

شام میں صدر بشارالاسد کو بچاتے ہوئے پاسداران انقلاب کے جنرل کے عہدے کے افسر بھی ہلاک ہوئےِ۔ ان میں جنرل حسین ھمدانی کا نام سرفہرست ہے۔ پاسداران انقلاب کے ایک دوسرے عہدیدار جنرل اسماعیل قصری کا کہنا ہے کہ مقتول جنرل حسین ھمدانی کا شام میں فوج اور دفاعی ملیشیا کی تشکیل میں اہم کردار رہا ہے۔ انہوں نے شامی اپوزیشن کا ناک میں دم کر رکھا تھا۔

اخباری رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران نے شام کے اسرائیل سے متصل جنوبی علاقوں میں اپنی فوج اور جنگجو تعینات کیے ہیں تاکہ اعتدال پسند اپوزیشن کو جنوبی شام بالخصوص وادی گولان میں "محفوظ زون" کے قیام سے روکا جا سکے۔