.

اسرائیلی فوجیوں کی فائرنگ سے فلسطینی لڑکی اور مرد شہید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی فوجیوں نے غربِ اردن میں اتوار کے روز دو الگ الگ واقعات میں فائرنگ کرکے ایک فلسطینی مرد اور ایک لڑکی کو شہید کردیا ہے۔

اسرائیلی فوج نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں مں تشدد کے حالہ واقعات کی طرح حسب معمول یہ کہانی گھڑی ہے کہ ان دونوں نے سکیورٹی اہلکاروں یا بس اسٹاپ پر کھڑے یہودی شہریوں پر چاقو سے حملے کی کوشش کی تھی۔

اسرائیلی فوج کے بیان کے مطابق ایک سولہ سالہ فلسطینی لڑکی نے مغربی کنارے کے شہر نابلس کے جنوب میں واقع ایک جنکشن پر فوجیوں پر چاقو سے حملے کی کوشش کی تھی۔وہاں پر موجود سکیورٹی اہلکاروں اور راہ گیروں نے فوری ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اس کو گولی مار دی ہے۔فلسطینی سکیورٹی حکام نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ لڑکی اپنے زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسی ہے۔

غربِ اردن کے شہر الریحہ کے نزدیک اتوار کو ایک اور جنکشن پر اسی طرح کا واقعہ پیش آیا ہے۔اسرائیلی فوج کے مطابق ایک فلسطینی مرد نے اسرائیلی شہریوں پر پہلے اپنی کار چڑھانے کی کو شش کی اور جب وہ اس میں ناکام رہا تو اپنی گاڑی سے نکل آیا اور اس نے وہاں کھڑے افراد کو چاقو گھونپنے کی کوشش کی تھی مگر اس کو ایک شہری نے گولی مار دی ہے اور وہ اپنے زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ گیا ہے۔ان دونوں واقعات میں کسی اسرائیلی کے زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔

اسرائیلی پولیس نے ہفتے کے روز ایک فلسطینی کو گرفتار کر لیا تھا۔اس پر اسرائیل کے جنوبی شہر کیریات گیٹ میں چار یہودیوں کو چاقو گھونپنے کا الزام تھا۔اسرائیلی فوج نے اس کی شناخت محمد تردہ کے نام سے کی ہے۔اس کی عمر اٹھارہ سال ہے اور وہ مغربی کنارے کے شہر الخلیل کے نواح میں واقع ایک گاؤں کا رہنے والا ہے۔