.

یمن: مآرب کی باغیوں سے آزادی کے بعد نائب صدر کا دورہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے نائب صدر اور وزیر اعظم خالد بحاح نے مآرب شہر سے حوثی باغیوں کو نکال باہر کیے جانے کے بعد شہر کا پہلا دورہ کیا ہے۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق یمنی نائب صدر متحدہ عرب امارات کے دورے پر تھے جہاں سے وہ براہ راست مآرب پہنچے۔ مآرب کو باغیوں سے چھڑانے کے بعد کسی اعلیٰ حکومتی شخصیت کا اس علاقے کا پہلا دورہ ہے۔

یمنی حکومت کے ایک ذمہ دار ذریعے نے بتایا کہ نائب صدر خالد بحاح نے مآرب گورنری کے صافر کے مقام کا دورہ کیا۔ اس دورے میں یمن کے وزیر برائے لوکل گورنمنٹ عبدالرقیب فتح، حکومت کے قانونی مشیر ڈاکٹر محمد ال٘مخلافی بھی موجود تھے۔

اپنے دورے کے دوران نائب صدر مآرب میں فوجی قیادت اور حکومت نواز مزاحمتی فورسز کے رہ نمائوں سے بھی ملیں گے۔

درایں اثناء یمن میں حکومت نواز مزاحمت کاروں نے الضالع گورنری کے مریس محاذ پر حوثی باغیوں اور علی صالح کے وفاداروں کے ساتھ گھمسان کی لڑائی کے بعد بعض اہم مقامات پر قبضہ کر لیا ہے۔ حوثیوں کی شکست کے بعد مزاحمتی کارکن تیزی کے ساتھ پیش قدمی کر رہے ہیں۔

الضالع گورنری سے ملنے والی تازہ اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ مزاحمتی فورسز نے حوثیوں کے ٹھکانوں پر گولہ باری کر کے ان کی کئی فوجی گاڑیوں اور اسلحہ کو تباہ کر دیا ہے اور اسلحہ کے گوداموں پر قبضہ کر لیا ہے۔

ادھر جنوب مغربی تعز کے الراھدہ شہر میں اور اس کے آس پاس باغیوں کے اہم ٹھکانوں کا گھیرائو کر لیا گیا ہے۔ حکومت نواز مینی فورسز اتحادیوں کی فضائی بمباری کے ساتھ ساتھ الراھدہ میں باغیوں کا تعاقب کر رہے ہیں۔ جنوب مغربی تعز میں یہ علاقہ تزویراتی اہمیت کا حامل ہے۔ یہاں سے باغیوں کی شکست کے بعد تعز کو آزاد کرانے کی راہ ہموار ہو جائے گی۔

درایں اثناء یمن کے دارالحکومت صنعاء میں اہل تشیع مسلک کے حوثی باغیوں اور سابق صدر علی عبداللہ صالح کی وفادار ملیشیا کے خلاف بنی ظبیان کے علاقے کے 'الخولان' قبائل نے نیا محاذ کھولا ہے۔ قبائل مزاحمتی کارکنوں نے جنوب مشرقی صنعاء میں واقع مآرب کی طرف سے بڑھنے والے حوثیوں کے خلاف اپنی کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔

الحدث ٹیلی ویژن کی رپورٹ کے مطابق بنی ظبیان قبیلے کے سربراہ اور صنعاء کے گورنر عبدالقوی الشریف نے پچھلی شب حوثیوں کے حملے کو ناکام بنا دیا تھا۔ حوثی لیڈر ابو علی الحاکم نے بنی ظبیان کے علاقے کی طرف بڑھنے کی کوشش کی تھی مگر الخولان قبائل نے حوثیوں کو صنعاء کی طرف جانے کے لیے راستہ دینے سے انکار کر دیا۔ جس کے بعد قبائلی کارکنوں اور حوثیوں کے بعد ایک نئی جنگ چھڑ گئی ہے۔

درایں اثناء لحج اور تعز کے علاقوں تک رسائی کے لیے استعمال ہونے والے راستوں پر حوثیوں کی بچھائی گئی بارودی سرنگیں صاف کر دی گئی ہیں۔

حکومت فورسز کے رہ نمائوں کا کہنا ہے کہ فوج نے جغرافیائی اعتبار سے نہایت اہمیت کے حامل تعز کے بعض علاقوں سے حوثیوں کو باہر نکال دیا ہے۔ پانچ دن تک جاری رہنے والی لڑائی میں حوثیوں کو تعز میں بھاری جانی اور مالی نقصان بھی اٹھانا پڑا ہے جس کے بعد وہ کئی محاذوں سے پسپا ہو گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق حکومتی فوج نے زمینی پیش قدمی کرتے ہوئے تعز گورنری کے الراھدہ شہر، اس کے پہاڑی علاقوں اور جنوب کی سمت میں بھی کئی کلومیٹر تک حوثیوں اور ان کی بچھائی گئی بارودی سرنگوں کا صفایا کیا ہے۔

ذرائع نے الحدث ٹیلی ویژن کو بتایا کہ پچھلے دو روز کے دوران تعز میں حکومت نواز فورسز کو بارودی سرنگوں کی وجہ سے رکاوٹوں کا سامنا تھا مگر تعز کے مرکز سے چالیس کلومیٹر مغرب میں واقع الرھدہ سے بارودی سرنگیں ختم کر دی گئی ہیں