.

بشارالاسد کے مستقبل پر مذاکرات کے لیے پوتن کی ایران آمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس کے صدر ولادی میرپوتن قدرتی گیس پیدا کرنے والے ممالک کی سربراہ کانفرنس میں شرکت کے لیے ایران روانہ ہو گئے ہیں۔ اپنے اس دورے کے دوران صدر پوتن اپنے ایرانی ہم منصب حسن روحانی اور سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سے بھی ملاقات کریں گے۔

خیال رہے کہ روسی صدر کا ایران پر اقتصادی پابندیوں کے خاتمے اور تہران کے جوہری پروگرام پر طے پائے سمجھوتے کے بعد تہران کا پہلا دورہ ہے۔ اگرچہ بہ ظاہر اس دورے کا مقصد سنہ 2011ء میں قائم کیے گئے قدرتی گیس پیدا کرنے والے ملکوں کے گیارہ رکنی فورم میں شرکت کرنا ہے مگر روسی صدر کا دورہ محض اس کانفرنس میں شرکت تک محدود نہیں ہو گا۔ کانفرنس میں شام کے صدر بشارالاسد کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے بھی بات چیت کی جائے گی۔

ماسکو کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر پوتن اپنے دورہ تہران کے دوران ایرانی قیادت سے دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ اور شام کے بحران پر تفصیلی بات چیت کریں گے۔ صدر روحانی اور ولادی میرپوتن کےدرمیان ملاقات کے ایجنڈے میں شام کا معاملہ سر فہرست رہے گا۔

ذرائع کے مطابق روسی صدر اور ایرانی حکام کے درمیان بات چیت میں شامی اپوزیشن کے نمائندوں کے ساتھ مذاکرات، شام میں عبوری حکومت کے قیام کے لیے اپوزیشن اور حکومت کے درمیان بات چیت کی بحالی پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

مبصرین کے خیال میں روس اور ایران دونوں شام میں عبوری حکومت کے قیام کے لیے کسی متفقہ فارمولے تک پہنچنے کی کوشش کریں گے۔ گیس پیدا کرنے والے ملکوں کی دوسری قیادت بھی شام کے بحران کے حل کے لیے بات چیت پر زور دے گی۔ عین ممکن ہے سربراہ کانفرنس میں شام میں روسی فوج کی مداخلت کا معاملہ بھی زیربحث آئے۔

کانفرنس میں ایران اور روس کے درمیان معاشی روابط کے فروغ کو بھی خاص اہمیت حاصل رہے گی۔ ایران پر تازہ تازہ عالمی اقتصادی پابندیوں کی شروعات ہوئی ہیں۔ روسی حکومت کی جانب سے تہران کو سات ارب ڈالر کی رقم بہ طور قرض ادا کرنے کا اعلان کیا جا چکا ہے۔ دونوں ملکوں میں توانائی کے شعبوں میں باہمی تعاون کو بڑھانے بالخصوص بجلی کے شعبے کے بنیادی ڈھانچے میں روس کی جانب سے ایران کی مدد کے معاہدے کیے جا سکتے ہیں۔

قبل ازیں روسی وزیر توانائی الیکذنڈر نوفاک نے کہا تھا کہ تہران اور ماسکو کے درمیان گیس کے ذریعے بجلی پیدا کرنے کے آٹھ سے دس مشترکہ منصوبوں کے قیام کے لیے بات چیت جاری ہے۔ ان میں سے ہر ایک پروجیکٹ میں کم سے کم تین میگاواٹ بجلی کی تیاری پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس منصوبے پر دس ارب ڈالر کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔