.

شامی فوج کا صوبہ حمص میں ایک قصبے اور گاؤں پر قبضہ

شامی فوج سے لڑائی میں داعش کا بھاری جانی نقصان ہوا ہے: سرکاری میڈیا کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی صدر بشارالاسد کی وفادار فوج نے وسطی صوبے حمص میں داعش کے زیر قبضہ ایک قصبے اور ایک گاؤں پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

شام کے سرکاری ٹیلی ویژن چینل نے سوموار کو ایک نشریے میں بتایا ہے کہ ''فوج حکومت نواز ملیشیا عوامی دفاعی گروپ کے تعاون سے حمص کے جنوب مشرق میں واقع قصبے مہین اور گاؤں حوارین پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے۔فوج کے ساتھ لڑائی میں داعش کا بھاری جانی نقصان ہوا ہے''۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے بھی ایک بیان میں اسدی فوج کی اس پیش قدمی کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ اس کو یہ کامیابی روس کے لڑاکا طیاروں اور فوجی ہیلی کاپٹروں کی داعش کے ٹھکانوں پر فضائی بمباری کی بدولت ملی ہے۔

داعش کے جنگجوؤں نے یکم نومبر کو مہین پر قبضہ کیا تھا اور وہ صرف بائیس روز تک ہی اس پر اپنا کنٹرول برقرار رکھ سکے ہیں۔قبل ازیں باغی گروپوں اور شامی فوج کے درمیان اس قصبے میں سیزفائر ہوا تھا جس کے تحت باغی گروپ قصبے کے اندر موجود رہے تھے جبکہ اس کے باہر چیک پوائنٹس پر سرکاری فوج کا کنٹرول تھا۔

داعش کے جنگجوؤں نے نواحی قصبے القریتین سے مہین پر حملہ کیا تھا۔اس قصبے پر انھوں نے گذشتہ سال سے قبضہ کر رکھا ہے۔انھوں نے لڑائی میں سیکڑوں افراد کو ہلاک کردیا تھا اور مسیحیوں کی تاریخی عمارات کو تباہ کردیا تھا۔اب شامی فوج کی پیش قدمی کے بعد القریتین مہین سے صرف پندرہ کلو میٹر دور رہ گیا ہے۔

ادھر حمص ہی میں واقع تاریخی شہر تدمر( پلمائرا) کی جانب بھی شامی فوج پیش قدمی کررہی ہے۔داعش نے اس شہر پر مئی میں قبضہ کیا تھا اور انھوں نے یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل بہت سی تاریخی عمارات اور عیسائیوں کے معابد کو بموں سے اڑا دیا تھا یا انھیں بلڈوزروں کے ذریعے مسمار کردیا تھا۔اس پر انھیں عالمی سطح پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔