.

قاسم سلیمانی کے شامی لڑائی میں شدید زخمی ہونے کی اطلاع

پاسداران انقلاب کے جنرل ان دنوں تہران میں زیر علاج ہیں: اسرار ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران سے متعلق خفیہ خبروں کے لئے مشہور 'اسرار ایران' نامی ویب پورٹل نے دعوی کیا ہے کہ پاسداران انقلاب کی ایلیٹ القدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی شام میں ایک میزائل حملے کے دوران شدید زخمی ہونے کے بعد ان دنوں تہران کے ایک ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔

فارسی زبان کا 'اسرار ایران' ویب پورٹل ایرانی مزاحمت کی قومی کونسل کا ہم خیال سمجھا جاتا ہے۔ پورٹل نے دعوی کیا کہ قاسم سلیمان اپنے دو ساتھیوں کے ہمراہ حلب کے معرکے میں 'تاو' طرز کے بکتر بند گاڑی شکن میزائل حملے میں شدید زخمی ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق جنرل قاسم سلیمانی کو شام ہی میں ابتدائی طبی امداد کے بعد تہران روانہ کر دیا گیا تھا جہاں وہ تہران کے ایک ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔

یاد رہے کہ شامی انقلابیوں اور بشار الاسد کی فوج کے درمیان جاری لڑائی میں ایرانی پاسداران انقلاب کے متعدد اعلی عہدیدار ہلاک و زخمی ہو چکے ہیں۔ ابتک شام میں مارے جانے والے ایرانی فوجی افسروں میں سب سے اعلی عہدہ جنرل حسین ھمدانی کا ہے جو پاسداران انقلاب کے مشیر اعلی اور 'محمد رسول اللہ' یونٹ کے سربراہ تھے۔

فوجی مبصرین کا کہنا ہے کہ قاسم سلیمانی نے اگست میں اپنے دورہ روس کے موقع پر ولادیمیر پیوٹین سے وعدہ کیا تھا کہ وہ حلب اور حمص میں لڑائی کا پانسا بشار الاسد کی فوج اور ان کے اتحادیوں کے حق میں پلٹ سکتے ہیں بشرطیکہ روس انہیں اس لڑائی میں فضائی کور مہیا کرے۔ یہ درخواست شام میں روس کے براہ راست فضائی حملوں سے پہلے کی گئی تھی۔

یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ جنرل قاسم سلیمان شامی فوج کے شانہ بشانہ لڑنے والے ایرانی فوجی اور حامی ملیشیا کی ذاتی طور پر قیادت سنبھالے ہوئے ہیں۔ یہ فریضہ انہوں نے جنرل حسین ھمدانی کی اسی میدان جنگ میں ہلاکت کے بعد اپنے کاندھوں پر اٹھایا ہے۔ یہ صورتحال اس بات کے علی الرغم ہے کہ حالیہ چند دنوں میں 2000 ایرانی جنگجو لڑائی کے لئے شام میں اتارے گئے۔ اس کے علاوہ عراقی حزب اللہ بریگیڈ، افغانی فاطمیوں، پاکستانی زیبنیوں اور لبنانی حزب اللہ کو ایران سے مزید عسکری اور مادی امداد فراہم کی گئی ہے۔

'اسرار ایران' ویب پورٹل کا مزید کہنا تھا کہ امسال اگست میں روسی دورے سے واپسی پر جنرل قاسم سلیمانی نے شامی میدان جنگ میں کامیابیوں کے لئے انتھک محنت کی تاکہ اس 'کامیابی' کو شامی بحران کے سلسلے میں ہونے والے سیاسی مذاکرات میں اپنے حق میں استعمال کیا جا سکے۔ اس کے بعد روس نے تیس ستمبر سے داعش پر حملوں کے نام سے شامی اپوزیشن کو نشانہ بنایا شروع کر دیا تاکہ تہران میں طے پانے والا منصوبہ کامیاب بنایا جا سکے۔ اس منصوبے کی منظوری مرشد اعلی نے 5 اکتوبر کو قاسم سلیمانی اور جنرل حسین ھمدانی سے ملاقات میں دی جنہوں نے 'خطہ شھر محرم' علی خامنہ ای کے سامنے پیش کیا جس کا مقصد حلب شہر کا کنڑول اپوزیشن سے واپس لینا تھا، لیکن آٹھ اکتوبر پر حسین ھمدانی کی حلب معرکے میں ہلاکت سے ایران کا یہ منصوبہ حقیقت کا روپ نہ دھار سکا جس کے بعد جنرل قاسم سلیمانی کو بنفس نفیس اس محاذ پر داد شجاعت کے لئے جانا پڑا۔