.

ہم اتحادیوں کی پیٹھ میں چھرا نہیں گھونپتے: پیوٹین

ایرانی مرشد اعلی سے روسی صدر کی تہران میں دو گھنٹے طویل ملاقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس کے صدر ولادیمیر پیوٹین نے ایران کے مرشد اعلیٰ علی خامنہ ای سے پیر کے روز تہران میں ملاقات کی۔ پیوٹین کا کہنا تھا کہ 'ایران ایک قابل اعتبار اتحادی ہے اور روس اپنے اتحادیوں کی پیٹھ میں چھرا نہیں گھونپتا۔"

روسی صدر کا یہ بیان ان خبروں کی تردید معلوم ہوتا ہے جس میں شام سے متعلق ایران اور روس کے نقطہ نظر میں اختلافات کی باتیں سامنے آ رہی ہیں اور عندیہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ایران کے مفاد کو تج کر ماسکو شامی بحران کے بین الاقوامی حل کی جانب پیش قدمی کر رہا ہے۔

'فارس' نیوز ایجنسی کے مطابق روسی صدر نے اپنے ایرانی اتحادیوں کو یقین دلایا کہ وہ کوارڈی نیش کے ساتھ کسی بھی معاملے پر اختلافات کے حل میں یقین رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "ہم جو کچھ کہ رہے ہیں، اس کے پابند ہیں۔ ہم بعض لوگوں کی طرح اپنے اتحادیوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے عادی نہیں۔ ہم اپنے دوستوں کے خلاف پس چلمن کچھ قطعاً کچھ نہیں کرتے۔ ہمارے درمیان اگر اختلاف ہوا بھی تو اسے بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے گا۔"

خبر رساں ادارے کے مطابق دو گھنٹے تک جاری رہنے والی ملاقات میں مرشد اعلی نے شامی معاملے میں ماسکو کے علاقائی کردار کی تحسین کرتے ہوئے کہا کہ 'علاقے کے لئے امریکا کا طویل المیعاد منصوبہ ایران اور شام سمیت تمام قوموں اور ملکوں کو گزند پہنچائے گا۔ اس منصوبے کو قریبی تعلقات اور بیدار رہ کر ہی ناکام بنایا جا سکتا ہے۔'


انہوں نے تہران اور مغربی دنیا اور 5+1 کے درمیان نیوکلیئر معاہدے کے موقع پر بھی روسی کردار کو سراہتے ہوئے کہ یہ بات درست ہے کہ ہم ایک معاہدے پر پہنچے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم امریکیوں پر کبھی اعتبار نہیں کرتے۔"

علی خامنہ ای نے دونوں ملکوں کے درمیان سیاسی اور سیکیورٹی تعاون کو بھی خوش آئند قرار دیا۔ انہوں نے شام میں روسی مداخلت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ امریکی طویل المیعاد منصوبے کے تحت شام پر قبضہ چاہتے ہیں تاکہ وہ بعد میں خطے میں اپنا اثرو نفوذ بڑھا سکیں۔ اس طرح وہ مغربی ایشیا میں اپنی طویل غیر موجودگی سے پیدا ہونے والا خسارہ پورا کرنا چاہتے ہیں۔ یہ منصوبہ روس اور ایران سمیت تمام دوسری اقوام اور علاقائی ملکوں کے لئے خطرناک ہے۔

ایرانی مرشد اعلی کا کہنا تھا کہ "امریکا، شام میں فوجی ناکامی کے بعد مذاکرات کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے۔" انہوں نے کہا کہ "میں سمجھتا ہوں کہ دستوری طور پر منتخب ہونے والے صدر بشار الاسد سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ امریکا نقطہ نظر کی کمزوری کا بین ثبوت ہے۔"