.

روسی جوہری ٹیکنالوجی کی ایران کو برآمد کرنے کی اجازت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روسی حکومت نے اپنے دیرینہ اتحادی ایران پرعالمی اقتصادی پابندیوں میں نرمی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تہران کو جوہری ٹیکنالوجی سے متعلق آلات کی برآمدات پر پابندیاں ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ماسکو کی جانب سے یہ اعلان صدر ولادی میرپوتن کے دورہ ایران کے موقع پر کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ ایران کے متنازع ایٹمی پروگرام کی وجہ سے عالمی برادری کی جانب سے تہران پر کئی اقسام کی پابندیاں عاید کی گئی تھیں جن میں جوہری ٹیکنالوجی اور اس کے متعلقہ آلات بھی شامل تھے تاہم رواں سال جولائی میں ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان طے پائے سمجھوتے کے تحت تہران نے جوہری پروگرام محدود کرنے کا فیصلہ کیا تھا جس کے رد عمل میں ایران پر عاید اقتصادی پابندیاں بھی مرحلہ وار اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

ایران کو جوہری ٹیکنالوجی کے آلات پر پابندیوں میں نرمی کا روسی فیصلہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب صدر ولادی میرن پوتن نے تہران میں اپنے ایرانی ہم منصب حسن روحانی اور سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سے ملاقاتیں کی ہیں۔

عالمی پابندیوں میں نرمی کے بعد ماسکو کے لیے ایران کی جوہری شعبے سمیت اور دیگر معاشی شعبوں میں تعاون کی راہیں کھل گئی ہیں۔ صدر پوتن کے دورہ تہران کے بعد روس کے سرکاری اداروں کے ایران کے ساتھ رابطے بحال ہو گئے ہیں۔ روسی ادارے نہ صرف ایران کو جوہری ٹیکنالوجی کے میدان میں صلاح مشورہ دیں گے بلکہ وہ تہران کو تین اہم شعبوں فورڈو یورنیم افزودگی مرکز کے قیام میں معاونت، افزدوہ شدہ یورینیم اور خام یورینیم میں تبادلے اور اراک کے بھاری پانی کے ری ایکٹر میں معاونت بھی شامل ہے۔

یہاں یہ امر قابل ذکر رہے کہ ایران کو عالمی اقتصادی پابندیوں کے دائرے سے نکلنے کے لیے ایک عشرہ درکار ہو گا کیونکہ تہران کو یہ ثابت کرنا ہے کہ وہ جوہری اسلحہ کے حصول کی کوشش نہیں کر رہا ہے۔ ایران کی اسی عملی یقین دہانی کے ساتھ ساتھ تہران پرعاید عالمی اقتصادی پابندیوں میں مرحلہ وار نرمی کی جائے گی۔

ایران نے معاہدے کے تحت عالمی طاقتوں کی شرط مان رکھی کہ وہ ایک حد سے زیادہ یورینیم افزودہ نہیں کرے گا۔ یورینیم کے لیے استعمال ہونے والے تیارہ شدہ سینٹری فیوجز کی تعداد کم کرنے کا پابند ہو گا اور یورینیم کی بھاری مقدار ذخیرہ نہیں کرے گا۔