.

'تحفے کا بدلہ دہشت گردی کی پشت پناہی کا الزام'

بشارالاسد کے کٹھ پتلی مفتی کے دوغلے پن کا مظاہرہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں صدر بشارالاسد کے وفادار سرکاری مفتی اعظم ڈاکٹر احمد بدر الدین حسون نے اپنے دوغلے پن کا برملا مظاہرہ کرتے ہوئے امریکا سے آئے ایک وفد سے تحفہ قبول کیا مگر ساتھ ہی امریکا اور مغرب کو دہشت گردی کے سرپرست قرار دیتے ہوئے انہیں خوب کوسا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق حال ہی میں امریکا میں مقیم عرب صحافیوں کے ایک وفد نے دمشق میں مفتی اعظم کے دفتر اور شامی وزارت اوقاف کے دفتر کا دورہ کیا جہاں ان کی ملاقات سرکاری مفتی جو اب "اسدی مفتی" کے لقب سے مشہور ہو چکے ہیں سے بھی ملاقات کی۔ اس موقع پر امریکا سے آئے وفد نے مفتی حسون کو ایک شیلڈ بھی تحفے میں پیش کی۔ انہوں نے تحفہ قبول کر لیا مگر ساتھ ہی امریکا اور مغرب کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان پر دہشت گردی کی پشت پناہی اور انتہاپسندانہ افکار کو فروغ دینے کا الزام عاید کیا۔

مفتی اسد امریکی وفد سے ملاقات میں سفارتی آداب بھی بھول گئے کہ وہ جس ملک کے وفد سے ملاقات کرتے ہوئے اس سے تحفہ وصول فرما رہے ہیں اسے برا بھلا کیوں کہہ رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مفتی حسون کی امریکی مخالفت اپنی جگہ مگر وفد کو اس بات پر حیرت تھی کہ موصوف امریکی تحفہ تو قبول کرنے کو تیار ہیں مگر وہ کس ڈھٹائی کے ساتھ امریکیوں پر دہشت گردی کی پشت پناہی کا الزام عاید کر رہے ہیں۔

مفتی حسون نے نہ صرف امریکی وفد سے ملاقات کی۔ ان کا پیش کردہ شیلڈ کا تحفہ قبول کیا بلکہ ان کے ساتھ گروپ فوٹو بھی بنوایا۔

اس خبر کے سوشل میڈیا پر آنے کے بعد بڑی تعداد میں شہریوں نے اس پر تبصرے بھی کیے ہیں۔ ناقدین نے شام کے سرکاری مفتی پر دغلے پن کا مظاہرہ کرنے کا الزام عاید کیا ہے اور انہیں یاد دلایا ہے کہ سمندروں میں ڈوب کر اپنی جانیں قربان کرنے والے بچے امریکی دہشت گردی نہیں بلکہ شامی حکومت کی اپنی دہشت گردی کا نتیجہ ہیں۔ ملک کی اینٹ سے اینٹ امریکا اور مغرب نے نہیں بلکہ خود شامی فوج بے بجائی ہے۔ لاکھوں لوگوں کو مومت کے گھاٹ امریکا یا مغرب نے نہیں بلکہ بشارالاسد اور ان کے اجرتی قاتلوں نے اتارا ہے۔ کروڑوں لوگوں کو بے گھر کرنے کی ذمہ داری بھی بشارالاسد ہی پرعای ہوتی ہے جو اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے اپنی ہی عوام پر طاقت کا وحشیانہ استعمال کر رہے ہیں۔