.

ایلان کردی کی طرح ایک شامی بچی بھی سمندری لہروں کی نذر!

سینا چند روز قبل ترکی اور یونان کے درمیان سمندر میں ڈوب گئی تھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دو ماہ پیشتر ترکی کے ایک ساحل سمندر سے اوندھے منہ پڑی تین سالہ شامی پناہ گزین بچے ایلان کردی کی میت نے پوری دنیا کو جنھجھوڑ کر رکھ دیا گیا تھا۔ سمندر کی بے رحم موجوں میں اب تک کتنے ہی شامی بچے،بوڑھے،جوان اور عورتیں زندگی کی تلاش میں زندگی کی جنگ ہار چکے ہوں گے مگرایلان کردی کی طرح ایک اور شامی بچی کی نعش سمندر کے کنارے سے ملی ہے جو عالمی برادری کی بے حسی اور شامی حکومت کےمظالم کی منہ بولتی تصویر ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ترکی کے ساحل سے ملنے والی اس ننھی پناہ گزین کی شناخت سینا کے نام سے کی گئی ہے۔ نیلی رنگ کی پتلون اور سرخ ٹی شرٹ پہنے اس بچی کی میت کو سمندر کے کنارے پتھروں میں سے نکالا گیا۔

شامی پناہ گزین بچی کی میت ترکی کے قریب حادثے کا شکار ہونے والی ایک کشتی کے حادثے کے چار روز بعد ملی ہے۔ اطلاعات تھیں کہ حادثے میں ڈوبنے والی کشتی پر پندرہ پناہ گزین سوار تھے۔ بعض ذرائع مسافروں کی تعداد 28 بتاتے ہیں۔ یہ حادثہ ترکی اور یونان کے درمیان "کوس" نامی ایک جزیرے کے قریب 18 نومبر کوپیش آیا تھا۔ یہ لوگ اسی جزیرہ میں پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے مگر سمندری طوفان کے باعث ان کی کشتی الٹ گئی تھی۔

ترک ذرائع ابلاغ کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والی کشتی کے 9 مسافروں کی میتیں ملی ہیں۔ ان میں سینا نامی بچی کی لاش بھی شامل ہے۔ حادثے کا شکار ہونے والی کشتی کے ایک زندہ بچ جانے والے مسافر نے بتایا کہ بچی کا نام سینا ہے۔ اس کی والدہ اسے اسی نام سے پکارتی تھی تاہم والدہ کے انجام کا کچھ پتا نہیں چل سکا ہے۔ ابھی تک اس بچی کے بارے میں مزید معلومات نہیں آسکی ہیں۔

ترک ذرائع ابلاغ کے مطابق سینا کی عمر 4 سال بتائی جاتی ہے۔ اسے ترک ماہی گیروں نے ساحل سمندر پر پتھروں کے اندر پھنسے دیکھا اور ترک کوسٹ گارڈ کو اس بارے میں مطلع کیا گیا۔ حادثے کے بعد کنارے تک پہنچنے والی سینا کی پتھروں میں پھنسی لاش کی بھی تصویر سامنے آئی ہے۔

ننھی سینا کی کشتی کے المناک حادثے میں ہونے والی موت اور سمندر کے کنارے سے ملنے والی اس کی نعش کی تصویر نے ایلان کردی کا غم ایک بارپھر تازہ کر دیا ہے۔ سینا کی بے رحم سمندری موجوں میں ہونے والی موت سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ عالمی برادری نے ایلان کردی کی موت پر جس دکھ کا اظہار کیا وہ سب نمائشی تھا۔ پناہ گزینوں کی مشکلات کے حل کے حوالے سے دنیا کی بے حسی جوں کی توں قائم ہے۔

شامی حکومت اور بشارالاسد سے کسی خیر کی توقع اس لیے بھی نہیں کی جا سکتی کیونکہ انہوں نے ایلان کردی کی موت کا تمسخر اڑاتے ہوئے کہا تھا کہ ایلان کی تصویر کو دمشق کے خلاف منفی پروپیگنڈے کی خاطر بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ ایلان کردی کے بعد سینا کی تصویر ایک نیا اضافہ مگر بشارالاسد کے مظالم کے البم میں اس کے بعد کس کی تصویر سجے گی؟