.

الٹرا آرتھوڈکس یہود کو فوجی بھرتی سے استثنیٰ میں توسیع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی پارلیمان نے الٹرا آرتھوڈکس یہود کو لازمی فوجی خدمات سے استثنیٰ دینے کی مدت میں مزید چھے سال کی توسیع کردی ہے۔

اسرائیلی پارلیمان کے ایک سو بیس میں سے انچاس ارکان نے اس نئے قانون کے حق میں ووٹ دیا ہے اور چھتیس نے اس کی مخالفت کی ہے۔یہ قانون 2014ء میں منظور کردہ قانون کی جگہ نافذالعمل ہوگا۔اس کے تحت الٹرا آرتھوڈکس یہود کے لیے استثنائی مدت 2017ء میں ختم ہونا تھی۔

نئے قانون کے تحت اس مدت میں مزید تین سال کی توسیع کی گئی ہے اور اس کی منظوری کو انتہاپسند صہیونی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی حکومت میں شامل الٹرا آرتھوڈکس یہود کی جماعتوں کی ایک بڑی کامیابی قراردیا گیا ہے۔

2014ء میں الٹرا آرتھوڈکس یہودی مردوں کو لازمی فوجی یا سویلین خدمات سے مستثنیٰ قرار دینے کے لیے قانون تب وزیر خزانہ یائر لیپڈ کی تحریک پر منظور کیا گیا تھا۔ان کی جماعت یش عتید نیتن یاہو کی حکومت میں مرکزی حیثیت کی حامل تھی۔

اسرائیل میں اس سال کے اوائل میں منعقدہ قبل ازوقت عام انتخابات کے بعد یش عتید حکومت میں شامل نہیں ہوئی تھی جس کے بعد الٹرا آرتھو ڈکس یہود کی جماعتوں نے حکومت میں شمولیت کے لیے اس قانون کو منسوخ کرنے کی شرط عاید کی تھی۔اب لیپڈ یاَئر نے پارلیمان میں نئی قانون سازی کےخلاف ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کردی ہے۔

2014ء کے قانون کے بارے میں بہت سے اسرائیلی یہ کہتے رہے ہیں کہ یہ 1948ء میں الٹرا آرتھوڈکس یہود کو دیے گئے استثنیٰ کی تاریخی ناانصافی ہی میں ترمیم ہے۔تب اسرائیل کے قیام کے وقت ان سخت گیر یہود کی تعداد بہت تھوڑی تھی۔

اس کے بعد الٹرا آرتھو ڈکس یہود کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور اب وہ اسرائیل کی کل آبادی اسی لاکھ نفوس کا قریبا دس فی صد ہیں۔وہ اس بات میں یقین رکھتے ہیں کہ ان کی جانب سے یہود کے اوراق مقدس کا مطالعہ وتعلیم اسرائیل کے لیے فوجی خدمات سے کم نہیں ہے۔

بعض بند قسم کی الٹرا آرتھو ڈکس یہودی کمیونٹیوں کے لیڈر اس خدشے کا بھی اظہار کرچکے ہیں کہ مشترکہ فوجی خدمات کے ذریعے وہ عمومی اسرائیلی معاشرے میں گھل مل سکتے ہیں جس کے ان پر اثرات مرتب ہوں گے۔

نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ پارٹی کے ایک رکن پارلیمان زاہی ہینبی نے حکمراں اتحاد کی جانب سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ الٹرا آرتھو ڈکس کمیونٹی نے 2014ء کے قانون کی سخت مزاحمت کی ہے اور حکومت کو یہ خدشہ لاحق ہوگیا تھا کہ اس کے لیے اس پر عمل درآمد کرانا مشکل ہوجائے گا۔u