.

ایرانی لڑاکا طیارے کی روسی بمبار کے ہمراہ پہلی پرواز!؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روسی وزارت دفاع نے حال ہی میں شامی اہداف پر اپنے لڑاکا طیاروں کے فضائی حملوں کی ایک ویڈیو جاری کی ہے جس کے بعد روسی فضائی بمباری میں ایرانی لڑاکا طیاروں شرکت کے بارے میں کئی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایران کا ملکیتی امریکی ساختہ ایف- ۱4 ٹوم کیٹ انٹرسیپٹر لڑاکا جہاز سات منٹ کی مکمل ویڈیو میں چند سیکنڈز کے لئے نمودار ہوتا ہے، اس کے ہمراہ روسی بمبار طیارے دیکھے جا سکتے ہیں۔ دوسرے کلپ میں جب روسی طیارے شامی اہداف پر فضا سے زمین پر مار کرنے والے میزائل برسانہ شروع کرتے ہیں تو ایرانی لڑاکا طیارہ منظر سے غائب ہو جاتا ہے۔

فارسی زبان میں نشریات پیش کرنے والے فرانس ریڈیو کے مطابق ان تصاویر کو اسرائیلی ذرائع ابلاغ سمیت متعدد میڈیا آؤٹ لٹس نے شام میں جاری جنگ میں ایرانی فضائیہ کی مداخلت اور شرکت کے ثبوت کے طور پر دکھایا ہے۔

ریڈیو فرانس نے متذکرہ ویڈیو کے حوالے سے شناخت ظاہر کئے بغیر فرانس ائر فورس کے ایک جنرل کا بیان نقل کیا ہے جس میں ان کا کہنا تھا کہ 'سیٹلائٹس اور رڈارز کے ذریعے ملنے والی معلومات کے مطابق ہمیں شامی فضائی حدود میں کوئی ایرانی لڑاکا طیارہ نظر نہیں آیا۔'

فرانسیسی جنرل کے بیان کے علی الرغم یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ ایرانی لڑاکا طیارے روسی بمبار جہازوں کے ہمراہ کیا کر رہے تھے؟ یہ ویڈیو کہاں بنائی گئی؟ یاد رہے کہ امریکا کے بعد صرف ایران ہی ایسا ملک ہے جس کے پاس ایف ۱4 ٹام کیٹ لڑاکا طیارے موجود ہیں۔ یہ جہاز شاہ ایران کا ۱۹79ء میں اقتدار ختم ہونے سے پہلے امریکا نے تہران کو فروخت کئے تھے۔

بعض حلقوں کا خیال ہے کہ ایرانی لڑاکا جہاز روسی بمبار طیاروں کے معیت میں ایرانی فضائی حدود کے اندر موجود تھے اور انہوں نے ایرانی سرحد تک روسی جہازوں کے ہمراہ پرواز کی۔

یاد رہے کہ شام میں ایران کے تقریباً ۲۰۰۰ جنگجو لڑائی میں شریک ہیں۔ یہ تعداد عراقی، لبنانی، افغانی اور پاکستانیوں پر مشتمل ملیشیا کے علاوہ ہے کہ جو مسلک کی محبت میں بشار الاسد حکومت کا دفاع کر رہے ہیں۔