.

شام میں ایران کے سینئر فوجی افسران کی ہلاکت کی اطلاعات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سرکاری اور نیم سرکاری ذرائع ابلاغ نے اطلاع دی ہے کہ شام کے محاذ جنگ پر لڑائی کے دوران باغیوں کے حملوں میں ایرانی فوج کے متعدد سینئر افسران ہلاک ہو گئے ہیں۔ دوسری جانب امریکی حکام نے اپنی رپورٹس میں بتایا ہے کہ حالیہ ایام میں ایران نے شام میں اپنی مداخلت کا دائرہ مزید وسیع کر دیا ہے۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ایرانی خبر رساں اداروں میں آنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ شام میں مارے جانے والوں میں فوج کے سینیر افسران اور سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے بعض مقربین بھی شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق سینئر فوجی عہدیداروں کی شام میں ہلاکت کی خبر پر تہران میں سخت غم اور صدمے کی کیفیت ہے۔ تاہم مرنے والوں کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اکتوبر میں شام میں باغیوں کے حملوں میں 67 ایرانی فوجی ہلاک ہوئے۔ ان میں بعض سینئر افسران بھی شامل ہیں۔

ادھر امریکی اخبار" واشنگٹن پوسٹ" نے ایرانی امور کے تجزیہ نگار علی فونی کے حوالے سے بتایا ہے کہ پچھلے کچھ عرصے سے تہران نے شام کے محاذ جنگ میں اپنی مداخلت کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔ علی فونی کا کہنا ہے جب سے روس نے شام میں اعلانیہ اپنی فوجی کارروائیوں کا اعلان کیا ہے ایران نے بھی اپنی مداخلت اور توسیع کا دائرہ بڑھا دیا ہے۔ تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ ایران، شام میں مقدس مقامات کے دفاع کی آڑ میں شیعہ جنگجوئوں کو اس جنگ میں جھونک رہا ہے۔

امریکی حکام کے اندازوں کے مطابق شام میں جاری لڑائی میں اب تک 2000 ایرانی فوجی اور نیم فوجی جنگجو ہلاک ہو چکے ہیں۔ جب سے روس نے شام میں بشارالاسد کے دفاع میں فوجیں اتاری ہیں تب سے ایرانی جنگجوئوں کی ہلاکتوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے۔