.

النصرۃ محاذ اور لبنان میں قطرکی ثالثی میں قیدیوں کا تبادلہ

داعش کے خلیفہ کی سابقہ اہلیہ سمیت 13 قیدیوں کے بدلے میں 16 لبنانی فوجی رہا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں القاعدہ سے وابستہ جنگجو گروپ النصرۃ محاذ اور لبنان نے قطر کی ثالثی میں قیدیوں کا تبادلہ کیا ہے۔اس کے تحت النصرۃ محاذ نے دولت اسلامیہ عراق وشام (داعش) کے خلیفہ ابوبکر بغدادی کی سابقہ اہلیہ سمیت اپنے تیرہ قیدیوں کے بدلے میں سولہ لبنانی فوجیوں کو رہا کردیا ہے۔

النصرہ محاذ نے اگست 2014ء سے لبنان کے سولہ فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کو یرغمال بنا رکھا تھا۔جولائی میں شام کے اس باغی گروپ نے لبنان کو داعش کے خلیفہ ابو بکر البغدادی کی ایک سابقہ اہلیہ سجی الدلیمی اور چار دیگر خواتین کے بدلے میں یرغمال فوجیوں کی رہائی کی پیش کش کی تھی۔

النصرۃ کی قید سے رہائی پانے والے سولہ لبنانی فوجی اور پولیس اہلکار ریڈ کراس کی چار گاڑیوں کے ذریعے منگل کے روز لبنان کے مشرقی علاقے جرود عرسال میں ایک فوجی چیک پوائنٹ پر پہنچ گئے ہیں۔لبنان کے ایم ٹی وی نے ان کے رہائی کے بعد شامی علاقے سے وہاں پہنچنے کی براہ راست فوٹیج نشر کی ہے۔

شامی گروپ کے جنگجو لبنانی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کو تین پک اپ ٹرکوں کے ذریعے لبنان کے سرحدی قصبے عرسال کے نزدیک ملاقات کی جگہ پر لائے تھے اور انھیں لبنانی حکام کے حوالے کیا ہے۔ان کے بدلے میں قطر کی ثالثی میں اس ڈیل کے تحت لبنانی جیلوں میں قید تیرہ اسلام پسندوں کو رہا کرکے النصرۃ محاذ کے حوالے کیا گیا ہے۔ان میں سجی الدلیمی کے علاوہ چار خواتین شامل ہیں۔

سجی الدلیمی کو لبنانی حکام نے گذشتہ سال ملک میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔وہ اپنے موجودہ خاوند کے ساتھ جعلی شناختی کارڈ کے ذریعے لبنانی علاقے میں داخل ہوئی تھیں۔انھیں گذشتہ ماہ ایک لبنانی عدالت میں پیش کیا گیا تھا اور انھیں ان کے چار بچوں سمیت رہا گیا ہے۔

علاقے میں النصرۃ محاذ کے نقاب پوش جنگجو تعینات تھے۔ان میں سے بعض ایک عمارت پر بھی کھڑے تھے جہاں سے تمام علاقے کا منظر نظر آرہا تھا۔القاعدہ کی شاخ نے لبنان سے عرسال میں انسانی امداد مہیا کرنے کا بھی مطالبہ کیا تھا اور اس امداد کے اس قصبے میں پہنچنے میں تاخیر ہوگئی تھی جس کے پیش نظر قیدیوں کی رہائی میں بھی تاخیر کردی گئی تھی۔

یادرہے کہ گذشتہ سال اگست میں شام میں صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کے خلاف برسرپیکار مختلف جہادی گروپوں سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں نے لبنان کے مشرقی علاقے وادی بقاع میں واقع قصبے عرسال اور اس کے نواح میں پولیس اور فوج کی چوکیوں پر حملہ کردیا تھا۔انھوں نے النصرۃ محاذ سے وابستہ ایک مشتبہ شخص کی گرفتاری کے بعد وادی بقاع میں یہ دھاوا بولا تھا۔

وہ مقامی علماء اور قبائلی عمائدین کی مداخلت کے بعد عرسال سے شامی علاقے کی جانب جاتے ہوئے انتیس فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کو یرغمال بنا کر ساتھ لے گئے تھے۔ان میں سے چار فوجیوں کو دوران حراست ہلاک کردیا گیا تھا اور نو لبنانی فوجیوں کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اس وقت داعش کی قید میں ہیں۔داعش نے ان کی رہائی کے لیے لبنان سے مذاکرات سے انکار کردیا تھا۔