.

اسرائیلی فورسز نے فلسطینی کا مکان مسمار کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی فوج نے غربِ اردن میں ایک فلسطینی کا مکان مسمار کردیا ہے۔اس پر ایک اسرائیلی جوڑے پر فائرنگ اور اس کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی کا الزام تھا۔

اسرائیلی فوج نے اس فلسطینی کی شناخت راعب احمد محمد علوی کے نام سے کی ہے۔اس کی عمر چالیس سال کے لگ بھگ ہے اور اس کو اسرائیلی جوڑے پر حملے کے بعد گرفتار کر لیا گیا تھا۔

اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ علوی حماس کے پانچ ارکان پر مشتمل ایک سیل کا سربراہ تھا۔انھوں نے غربِ اردن کے شمالی علاقے میں امریکی شہری اعطام ہینکن اور اس کی اہلیہ نعما کو یکم اکتوبر کو ان کی کار پر فائرنگ کرکے ہلاک کردیا تھا۔اس واقعے میں مقتول جوڑے کے چاروں بچے محفوظ رہے تھے۔وہ کار کی پچھلی نشست پر بیٹھے ہوئے تھے۔

واضح رہے کہ اس واقعے کے بعد سے مقبوضہ مغربی کنارے اور بیت المقدس میں اسرائیلی سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں ایک سو سے زیادہ فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔ان میں نصف کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ مبینہ طور پر حملہ آور تھے اور ان کے چاقو حملوں اور فائرنگ سے سترہ اسرائیلی ہلاک ہوئے ہیں۔ان کے علاوہ اریٹریا کا ایک شہری اور ایک امریکی بھی اسرائیلی فوجیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگیا تھا۔

انتہاپسند صہیونی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی حکومت نے اکتوبر میں چاقو حملے کرنے والے فلسطینیوں کے مکانوں کو مسمار کرنے کی پالیسی کی منظوری دی تھی۔اسرائیلی حکومت نے اپنے طور پر تو سد جارحیت کے نام پر اس ظالمانہ اقدام کی منظوری دی تھی مگر اس کے باوجود تشدد کا سلسلہ جاری ہے۔انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور ناقدین نے اسرائیل کی اس ظالمانہ پالیسی کی مذمت کرچکے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ اس کے ذریعے ایک فرد کے جُرم کی سزا اس کے پورے خاندان کو دی جارہی ہے۔