حیدرالعبادی: عراق میں غیرملکی فوج کی تعیناتی کی مخالفت

عراق میں غیر ملکی بری فوج درکار نہیں، اگر آئی تو جارحانہ اقدام سمجھیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

عراق کے وزیراعظم حیدر العبادی نے کہا ہے کہ انھوں نے کسی بھی ملک سے برّی فوج بھیجنے کی درخواست نہیں کی ہے۔انھوں نے عراق میں غیرملکی فوج کی تعیناتی کو ایک جارحانہ اقدام قرار دیا ہے۔

حیدرالعبادی کے سرکاری فیس بُک صفحے پر یہ بیان امریکی محکمہ دفاع کے ترجمان کرنل اسٹیو وارن کے ایک بیان کے بعد جاری کیا گیا ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ عراق میں داعش کے جنگجوؤں کے خلاف فوجی مہم میں معاونت کے لیے امریکا کی خصوصی آپریشنز فورسز کے قریباً ایک سو فوجی تعینات کیے جائیں گے۔

قبل ازیں بدھ کو امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا تھا کہ عراقی حکومت کو امریکا کے خصوصی دستوں کی تعیناتی کے منصوبے سے مکمل طور پر آگاہ کردیا گیا ہے لیکن ایک روز بعد ہی وزیراعظم حیدر العبادی نے کہا ہے کہ ان کے ملک کو غیرملکی زمینی فوج کی ضرورت نہیں ہے۔

جان کیری نے گذشتہ روز بلغراد میں تنظیم برائے سلامتی اور تعاون یورپ کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں خبردار کیا تھا کہ داعش کو صرف فضائی حملوں سے شکست نہیں دی جا سکتی ہے۔انھوں نے کہا کہ عرب اور شامی فوج کو داعش کے قلمع قمع کے لیے شام میں منظم کیا جانا چاہیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں