.

"بیٹی میرے حوالے کر دو": داعش خلیفہ کی مطلقہ سے اپیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شدت پسند تنظیم دولت اسلامی"داعش" کے سربراہ اور خود ساختہ اسلامی ریاست کے سربراہ ابوبکر البغدادی نے اپنی مطلقہ سجی الدیلمی سے اپنی بیٹی کی سپرداری کا مطالبہ کیا ہے۔ البغدادی نے اپنے ایک پیغام میں پوچھا ہے کہ "الدیلیمی کے ساتھ فرار ہونے والی اس کی بیٹی کہاں ہے؟"

العربیہ ڈاٹ نیٹ کےمطابق البغدادی کی جانب سے یہ مطالبہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند روز قبل النصرہ فرنٹ اور لبنانی فوج کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے ایک معاہدے کے تحت سجی الدیلیمی نامی خاتون کو رہا کیا گیا تھا۔ الدلیمی کو کچھ عرصہ قبل لبنان داخل ہونے پر حراست میں لیا گیا تھا۔

گرفتار کے وقت الدلیمی کے ہمراہ ایک چھوٹی بچی بھی تھی۔ لبنانی سیکیورٹی فورسز نے دعویٰ کیا تھا کہ الدلیمی البغدادی کی بیوی ہے۔ بعد ازاں اطلاعات آئیں کہ البغدادی نے الدلیمی کو طلاق دے دی تھی اور وہ اپنی ایک بیٹی کے ہمراہ لبنان آ گئی تھی۔ حال ہی میں ڈیڑھ سال سے النصرہ کے ہاں جنگی قیدی بنائے گئے کئی لبنانی فوجیوں کی رہائی کے بدلے میں جن جنگجوؤں کو رہا کیا گیا تھا ان میں الدلیمی بھی شامل تھی۔

گرفتاری کے وقت الدلیمی نے بھی کہا تھا کہ اس کے ہمراہ سات سالہ بیٹی ابوبکر البغدادی ہی کی ہے تاہم اب البغدادی کے ساتھ اس کا ازدواجی تعلق ختم ہو چکا ہے۔

اخبار "القدس العربی"نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ لبنانی سیکیورٹی حکام نے ایک شخص کو حراست میں لیا ہے جس کے قبضے سے الدلیمی کے نام ارسال کردہ ایک مکتوب ہے۔ یہ مکتوب مبینہ طور پر الدلیمی کے لیے البغدادی کی جانب سے ارسال کیا گیا ہے جس میں اس سے کہا گیا ہے کہ وہ ھاجر نامی بیٹی کو واپس کرے۔

لبنانی ذرائع ابلاغ کے مطابق شام سے لبنان پہنچنے والی الدلیمی نامی خاتون کے ہمراہ چار بچے تھے جن میں دو جڑواں بچوں کی شناخت اسامہ اور عمر کے ناموں سے کی شناخت کی گئی تھی۔ ممکنہ طور پر ایک بچی اور دو بچے البغدادی جب کہ ایک بچہ الدلیمی کے فلسطینی نژاد شوہر کمال محمد خلف نامی ایک دوسرے جنگجو سے تھا۔