.

خامنہ ای، پیوٹن تصاویر بردار ایرانیوں کی عراق پر 'چڑھائی '

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

نواسہ رسول حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے چہلم کے موقع پر ہزاروں ایرانیوں کے پاسپورٹ کے بغیر عراق میں گھسنے کے بعد بغداد اور ملک کے دوسرے شہروں میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور روسی صدر ولایمیر پیوٹن کی تصاویر نے ایک نئی بحث شروع کر دی ہے۔

اطلاعات کے مطابق ایران سے زبردستی عراق میں داخل ہونے والے ہزاروں مرد وخواتین ایرانیوں کو خامنہ ای اور صدر پیوٹن کی تصاویر اٹھائے دیکھا جا سکتا ہے۔ ملک کے سیاسی حلقوں نے ایرانی زائرین کے اس انداز میں بغداد میں 'دراندازی' کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایرانی جس طریقے سے عراق میں داخل ہوئے اس نے عراقی سیاسی قیادت کو بھی سخت برہم کیا ہے۔ عراقی سیاست دانوں اور بعض حکومتی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ تہران، بغداد کو اپنی کالونی سمجھتا ہے اور مذہبی مراکز میں گھسنے کے لیے ایرانی ایسے دوڑے چلے آتے ہیں جیسے وہ اپنے ملک کے کسی شہر میں چل پھر رہے ہیں۔ ایرانیوں کا یہ طرز عمل محض عراق تک محدود نہیں بلکہ شام میں بھی ایرانی اسی طرح بے دھڑک داخل ہوتے اور فرقہ وارانہ سازشوں کے مرتکب ہوتے ہیں۔

سابق عراقی رکن پارلیمنٹ اور اہل سنت کی جماعتوں کے الائنس"متحدون" کے سربراہ اسامہ النجیفی نے ایرانی شہریوں کی دراندازی کی شدید مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ویزے اور پاسپورٹ کے بغیر ایرانیوں کی عراق میں دراندازی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ تہران، بغداد کو اپنی ملکیت سمجھ رہا ہے۔

بغداد میں میڈیا کو جاری ایک بیان میں النجیفی کا کہنا تھا کہ ایرانی زائرین کی جانب سے بغداد میں دراندازی کا یہ پہلا موقع نہیں بلکہ ایسے واقعات اب روز کامعمول بن چکے ہیں۔ ایرانی مقدس مقامات کی زیارت کی آڑ میں عراق کے شہروں میں کھلے عام دندناتے پھرتے ہیں۔ انہوں نے عراقی حکومت کی خاموشی کو بھی ہدف تنقید بنایا اور کہا کہ ایرانی حکومت عراق کو بھی اپنی ذاتی کالونی سمجھ رہا ہے۔

اسامہ النجیفی کا کہنا تھا کہ عراقی حکومت کی طرف سے غیر ملکی زائرین بالخصوص ایرانیوں کی بغیر ویزے کے ملک میں داخلے سے ظاہر ہو رہا ہے کہ حکومت بھی ایرانی دراندازی پر خوش ہے۔ انہوں نے کہا کہ عراقی حکومت کو اس بات کا اندازہ ہونا چاہیے کہ ایرانی زائرین عراق میں مقدس مقامات کی زیارت کے لیے نہیں بلکہ ملک میں انارکی کو ہوا دینے کی غرض سے آتے ہیں۔

ایرانی پرچم، خامنہ ای، پیوٹن اور سلیمانی کی تصاویر

درایں اثناء ایران کی سرکاری اور نیم سرکاری خبر رساں اداروں نے بھی عراق میں داخل ہونے والے زائرین کے ہاتھوں میں اٹھائے ایرانی پرچموں، سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای ، روسی صدر ولادی میر پیوٹن اور پاسداران انقلاب کی بیرون ملک سرگرم القدس ایلیٹ فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کی تصاویر کا حوالہ دیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران سے عراق داخل ہونے والے ایرانی زائرین نے ہاتھوں میں سپریم لیڈر کی تصاویر کے ساتھ قومی پرچم بھی اٹھا رکھے تھے۔ اس کے علاوہ بڑی تعداد میں زائرین کے پاس تہران کے حلیف روسی صدر ولادی میر پیوٹن اور جنرل قاسم سلیمانی کی تصاویر بھی موجود تھیں۔

اہم ایرانی رہ نمائوں اور صدر پیوٹن کی تصاویر کی وجہ سے عراق اور ایران کے ابلاغی حلقوں میں بھی ایک نئی بحث جاری ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ مقدس مقامات کی زیارت کی غرض سے عراق میں داخل ہونے والوں کے ہاتھوں میں روسی صدر اور ایرانی سپریم لیڈر کی تصاویر سے یہ تاثر ملتا ہے کہ تہران ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت عراق میں فرقہ واریت کو ہوا دے رہا ہے۔ اگر ایرانی زائرین محض مذہبی رسومات کی ادائی کے لیے عراق میں دخل ہو رہے ہیں توانہوں نے خامنہ ای، ولادی میر پیوٹن اور جنرل قاسم سلیمانی کی تصاویر کیوں اٹھا رکھی ہیں۔