.

کم سن داعشیوں کے ہاتھوں قیدیوں کے قتل کی ویڈیو جاری

ایک سال میں 1100 بچے داعش میں بھرتی، 50 ہلاک ہوئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دولت اسلامیہ عراق وشام "داعش" کہلوانے والی دہشت گرد تنظیم نے حال ہی میں انٹرنیٹ پر کم سن جنگجوئوں کے ہاتھوں یرغمالیوں کو موت کےگھاٹ اتارے جانے کی ایک ویڈیو جاری کی ہے۔ مبصرین کے خیال میں اس طرح کی ویڈٰیو کے اجراء کا مقصد دنیا کو یہ پیغام دینا ہے کہ داعش اپنی عسکری کارروائیوں کو آگے بڑھانے کے لیے نئی نسل تیار کررہی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق انٹرنیٹ پر پوسٹ کی گئی فوٹیج میں 6 کم عمر داعشی دکھائے گئے ہیں جنہیں جنگی قیدی بنائے گئے شامی فوجیوں کو موت کے گھاٹ اتارتے دکھایا گیا ہے۔

اس ساری کارروائی اور یرغمالیوں کو ہلاک کیے جانے کے منظر کو"یہودی بچوں کے نام پیغام "کے عنوان سے فلمایا گیا ہے۔ فوٹیج میں دکھائے گئے بچوں کی عمریں دس سال کے درمیان ہیں۔ انہیں داعش کے ہاں تعلیم وتربیت فراہم کی گئی۔ اسی فوٹیج میں ایک داعشی جنگجو کو نمودار ہوتے دیکھا گیا جو یہ کہہ رہا ہے کہ "ہم نے ٹریننگ میں کامیاب ہونے والے چند بچوں کا اس کارروائی کے لیے انتخاب کیا ہے۔ تم سب مرتدوں کا یہی انجام ہوگا۔"

اس ویڈیو کے آغاز میں بچے قلعے کے کھنڈرات میں شامی فوجیوں کی تلاش کر رہے ہیں اور ان فوجیوں کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔

ان قیدیوں کو تلاش کرنے کے بعد ہر ایک بچہ ایک ایک فوجی کو اس کانام، تاریخ پیدائش اور فوج میں اس کا عہدہ بتانے کے بعد ہلاک کرتا ہے۔ پانچ فوجیوں کو گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا جبکہ ایک کا گلا کاٹا گیا۔

فوٹیج میں بتایا گیا داعشی بچوں کے ہاتھوں شامی فوجیوں کو ہلاک کیے جانے کا عمل مشرقی شام کے دیر الزور شہر میں کیا گیا۔

خیال رہے کہ داعش کی جانب سے بچوں کے ہاتھوں قیدیوں کو موت کے گھاٹ اتارے جانے کا یہ پہلا واقعہ نہیں۔ چند ماہ پیشتر بھی اس نوعیت کے واقعات سامنے آچکے ہیں جہاں کم سن داعشیوں نے تین عراقی یرغمالی فوجیوں کو ہلاک کردیا تھا۔

داعش اس طرح کی کارروائیوں کو مشتہر کرکے دنیا کو یہ پیغام دینا چاہتی ہے کہ وہ اپنی لڑائی کو نئی نسل تک منتقل کر رہی ہے۔

واضح رہے کہ رواں سال کےدوران دولت اسلامی "داعش" نے 1100 بچوں کو جنگی مقاصد کے لیے بھرتی کیا۔ انسان حقوق کی صورت حال پر نظر رکھنے والے ادارے "آبزرویٹری" کے مطابق داعش کی صفوں میں شامل ہونے والے 50 کم سن جنگجو حالیہ مہینوں میں ہلاک ہو چکے ہیں۔