.

"ترک افواج فورا عراق سے نکل جائیں"

ترک بٹالین سرحد پار کرکے بغیر اجازت عراق میں داخل ہو گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق نے ترکی سے اپیل کی ہے کہ وہ اچھے ہمسایوں جیسے تعلقات کا احترام کرتے ہوئے فوری طور پر اس کی سرزمین سے نکل جائے۔ بغداد کی جانب سے انقرہ کو پہلی مرتبہ ایسے لب ولہجے سے مخاطب کیا جا رہا ہے۔

عراقی حکومت نے وزیر اعظم کے میڈیا آفس کے توسط سے ایک بیان میں کہا ہے کہ "ہمارے پاس ترک فوج کی بکتر بند گاڑی اور متعدد ٹینکوں کے ساتھ عراقی علاقے میں داخلے کی مصدقہ اطلاعات ہیں۔ یہ فوج نینوی کے علاقے میں داخل ہوئی ہے۔"

'العربیہ' کو ملنے والے عراقی حکومت کے بیان میں کہا گیا ہے کہ 'ترک فوج، عراقی حکومت کے مطالبے اور درخواست کے بغیر عراقی فوجیوں کو تربیت کے لئے آئی ہے۔" یہ اقدام عراقی خودمختاری پر حملہ ہے اور کسی بھی طور عراق اور ترک کے درمیان اچھی ہمسائیگی کے تقاضوں سے میل نہیں کھاتا۔

عراقی پارلیمنٹ میں سیکیورٹی دفاع کی کمیٹی کے سربراہ حاکم الزاملی نے بکتر بند گاڑیوں اور ٹینکوں کے ساتھ ہزاروں ترک فوجیوں کی نینوی میں سرحدی علاقے کے اندر داخلے کی تصدیق کی ہے۔

مقامی ویب پورٹلز میں نشر ہونے والے الزاملی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ترک افواج نے عراقی خودمختاری پر بغداد حکومت کے بغیر جانے وار کیا ہے۔ انہوں نے کردوں کی البیشمرکہ فورس پر الزام لگایا کہ انہوں نے موصل شہر کی آزادی کی خاطر ترک فوج کو سرحد پار کرنے کا گرین سگنل دیا۔

انہوں نے عراقی وزیر اعظم اور عراقی فوج کے سربراہ حیدر العبادی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی فضائیہ کو حکم دیں کہ وہ بغیر اجازت عراقی سرحد پار کرنے والی فوج کو نشانہ بنائیں کیونکہ ان کا اقدام قابض فوج کے زمرے میں آتا ہے۔

ادھرایک ترک عہدے دار نے رائٹرز کو بتایا ہے کہ فوجیں موصل بشیقہ کے خطے میں ہیں، جہاں، بقول اُن کے، ’عام تربیتی مشقیں‘ کی جا رہی ہیں۔ فوجوں نے داعش کے زیر قبضہ موصل کے شہر سے تقریباً 30 کلومیٹر دور سرحد پار کی۔

ترک میڈیا نے تعیناتی کی خبر دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں ٹینک اور بکتربند گاڑیاں شامل ہیں۔ اِن رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ نئی ترک فوجیں عام اسپیشل فورسز کی جگہ لیں گی جو اسی علاقے میں دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کے خلاف لڑنے کی تربیت لیتی رہی ہیں۔

امریکی اہل کاروں نے جمعہ کی شام گئے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایک ترک بٹالین سرحد پار کرکےعراق میں داخل ہوگئی ہے۔امریکہ کا کہنا ہے کہ یہ تعیناتی داعش کے دہشت گرد گروپ کے خلاف اتحاد کی کارروائی کا حصہ نہیں۔ لیکن، یہ ترک عراق بندوبست کا ایک حصہ ہے۔

ترک عہدے داروں نے کہا ہے کہ تعیناتی کے بارے میں اُنھوں نے امریکہ اور دیگر اتحادی ملکوں کو پیشگی اطلاع دی تھی۔