.

لبنان میں خودکش بمبار گرفتاری سے بچا، مگر زندگی گنوا کر!

محمد حمزہ نے خود کو دھماکے سے اڑایا تو والدہ اور اہلیہ بھی زد میں آ گئیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے شمالی علاقے میں ایک مبینہ شدت پسند جنگجو کے گھر پر فوج کے چھاپے کے دوران جنگجو کے خود کو دھماکے سے اڑانے کے نتیجے میں دو خواتین سمیت تین افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

لبنان کے سیکیورٹی اور طبی ذرائع نے بتایا ہے کہ لبنان کے شمالی شہر طرابلس کے علاقے دئیر عمار میں ایک گھر پر مارے جانے والے اس چھاپے کے نتیجے میں محمد حمزہ نامی شخص نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا جس کے نتیجے میں اس کی والدہ اور بیوی بھی دھماکے کی زد میں آ کر ہلاک ہو گئیں۔

لبنانی فوج نے پچھلے ماہ بیروت کے کمرشل اور رہائشی علاقوں میں ہونے والے دو خودکش حملوں کے بعد سے ملک بھر میں شدت پسند عناصر کے خلاف چھاپوں اور گرفتاریوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ بیروت میں ہونے والے حالیہ دھماکوں میں 44 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

اس چھاپے کے دوران کم ازکم دس افراد زخمی ہوگئے تھے جن میں چار سیکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔ سیکیورٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ حمزہ کے بارے میں شبہ تھا کہ وہ داعش کے وفادار ایک گروپ میں شامل ہے۔

ایک لبنانی عدالت نے پچھلے ہفتے کے دوران داعش سے تعلق رکھنے والے 26 افراد کو سزا سنائی ہیں جن میں 23 افراد کا براہ راست تعلق بیروت میں ہونے والے دھماکوں سے تھا۔ بیروت دھماکوں میں ایک شیعہ آبادی والے علاقے کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

شام میں جاری خانہ جنگی کے اثرات کئی بار اس کے نسبتاً چھوٹے ہمسایہ ملک لبنان میں دیکھے جاتے ہیں جہاں پر سنی اور شیعہ تنظیموں کی جانب سے ایک دوسرے پر حملے کئے جاتے ہیں۔

یاد رہے کہ حال ہی میں القاعدہ کی شام میں موجود شاخ نے اگست 2014ء میں حراست میں لئے جانے والے 16 لبنانی سیکیورٹی اہلکاروں کو متعدد اسلام پسند جنگجوئوں کی رہائی کے بدلے آزاد کردیا تھا۔