بشارالاسد نے برطانیہ کے فضائی حملوں کی مخالفت کردی

برطانیہ کے شام میں داعش پر فضائی حملے مقصد کے حصول میں ناکام رہیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

شامی صدر بشارالاسد نے کہا ہے کہ برطانیہ کے شام میں داعش کے خلاف فضائی حملے اس جنگجو گروپ کو شکست دینے میں ناکام رہیں گے۔انھوں نے برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کی خطے کے بارے میں حکمت عملی کو مسترد کردیا ہے اور اس کا مضحکہ اڑایا ہے۔

انھوں نے یہ بات برطانوی اخبار سنڈے ٹائمز میں اتوار کو شائع شدہ انٹرویو میں کہی ہے۔ بشارالاسد کا یہ انٹرویو برطانوی پارلیمان میں داعش پر حملوں کی منظوری لے لیے قرار داد پر رائے شماری سے قبل کیا گیا تھا۔انھوں نے کہا کہ ''ڈیوڈ کیمرون کی حکمت عملی سے صورت حال بہتر نہیں ہوگی بلکہ اور بھی ابتر ہوجائے گی''۔

برطانوی پارلیمان نے بدھ کی شب طویل بحث کے بعد شام میں داعش کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں کی منظوری دی تھی اور اس کے چند گھنٹے کے بعد ہی جمعرات کی صبح برطانیہ کی شاہی فضائیہ نے الرقہ میں داعش کے زیر قبضہ تیل کی تنصیبات پر بمباری کی تھی۔ڈیوڈ کیمرون کی حکومت نے کہا تھا کہ تیل کے ان کنووں سے مغرب پر حملوں کے لیے رقوم مہیا ہورہی ہیں۔

شامی صدر نے کہا:'' وہ ایک مرتبہ پھر ناکام ہونے جارہے ہیں۔آپ سرطان زدہ حصوں کو کاٹ نہیں سکتے ہیں بلکہ آپ کو اسے جڑ سے ختم کرنا ہوگا۔اس طرح کا آپریشن سرطان زدہ حصوں کو کاٹ پھینکنے کے مترادف ہے۔اس سے مرض جسم میں زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے''۔

انھوں نے برطانوی وزیراعظم کے اس بیان کو بھی مضحکہ خیز قرار دیا ہے کہ شام میں مغرب کے حمایت یافتہ ستر ہزار سے زیادہ جنگجو موجود ہیں۔وہ جہادیوں پر فضائی حملوں کے نتیجے میں ان کے خالی کردہ علاقوں پر قبضہ کر لیں گے اور وہ شام میں جاری خانہ جنگی کے سیاسی حل کی راہ بھی ہموار کرسکتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ''یہ ڈیوڈ کیمرون کے کلاسیکل دعووں کی ایک لمبی فہرست کی تازہ قسط ہے۔یہ جنگجو کہاں ہیں؟ وہ جن ستر ہزار اعتدال پسند جنگجوؤں کے بارے میں بات کررہے ہیں ،وہ کہاں پائے جاتے ہیں۔یہ سات ہزار بھی نہیں ہیں''۔

برطانیہ امریکا کی قیادت میں شام اور عراق میں داعش مخالف جنگ میں شامل ہے۔وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے گذشتہ ہفتے داعش کو شکست دینے کے لیے اپنی حکمتِ عملی کا اعلان کیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ صرف فضائی حملوں سے اس جنگجو گروپ کو شکست نہیں دی جاسکے گی۔برطانیہ اس مقصد کے لیے ایک کثیرالجہت حکمت عملی پر عمل پیرا ہے اور وہ شام میں جاری خانہ جنگی کے سیاسی اور انسانی حل کے لیے کوشاں ہے۔

یاد رہے کہ کچھ عرصہ قبل اخبار سنڈے ٹیلی گراف نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا تھا کہ وزیراعظم کیمرون شام میں قومی اتحاد کی حکومت کے قیام کی صورت میں بشارالاسد کو مختصر عرصے کے لیے اقتدار میں رکھنے کے حق میں ہیں۔اخبار نے حکومت کے ایک بے نامی ذریعے کے حوالے سے لکھا تھا:''ڈیوڈ کیمرون کا مؤقف یہ ہے کہ ایسے شام کا کوئی طویل المیعاد ،مستحکم اور پُرامن مستقبل نہیں ہے کہ جب شامی عوام اپنے گھروں کو لوٹیں تو بشارالاسد ان کا لیڈر ہو''۔

جب اس ذریعے سے سوال کیا گیا کہ کیا بشارالاسد عبوری دور کے لیے برسراقتدار رہ سکتے ہیں تو اس کا کہنا تھا کہ ڈیوڈ کیمرون فوری طور پر ان کی اقتدار سے دستبرداری کا مطالبہ نہیں کریں گے کیونکہ ان کی ہمیشہ سے یہ تجویز رہی ہے کہ سیاسی انتقال اقتدار ہونا چاہیے۔

مغربی ممالک نے شام میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے اپنی سفارتی کوششیں تیز کردی ہیں اور اب امریکا کے بعض اتحادی ممالک شامی صدر بشارالاسد کو عبوری دور کے لیے حکومت کا حصہ بنانے کے حق میں نظر آتے ہیں۔وہ ویانا مذاکرات کے دو ادوار کے بعد شامی حکومت اورحزب اختلاف کو میز پر لانے اور ان کے درمیان دوبدو مذاکرات کے لیے کوشاں ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں