جدہ میں امریکی قونصل خانے پر حملے کے خصوصی مناظر

القاعدہ سے متعلق دستاویزی فلم کی آخری قسط نشر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

العربیہ ٹیلی ویژن چینل پر نشر کی گئی ایک تازہ دستاویزی فلم میں سنہ 2004ء میں القاعدہ کے دہشت گردوں کے مختلف حملوں کے احوال، مشاہدات اور مناظر کو تین اقساط میں پیش کیا گیا۔ "سعودی عرب کے عوام دہشت گردی کا کیسے سامنا کرتے ہیں" کے زیرعنوان ڈاکو مینٹری کی تیسری اور آخری قسط میں جدہ میں سنہ 2004ء میں امریکی قونصل خانے پر دہشت گردوں کے حملوں کے خصوصی احوال بیان کیے گئے ہیں۔

دستاویزی فلم کے مطابق گیارہ سال پیشتر جب القاعدہ کے جنگجوؤں نے جدہ میں واقع امریکی قونصل خانے پر حملہ کیا تو انہوں نے صالح العوفی نامی جنگجو کی کمان میں پانچ دہشت گردوں کواس کام کے لیے تیار کیا تھا۔ دہشت گردوں نے ایک نیا طریقہ واردات استعمال کیا۔ انہوں نے سفارت خانے کی گاڑی کو استعمال کرتے ہوئے قونصلیٹ کے گیٹ پرحملہ کیا۔

دہشت گردوں نے دھاوا بولنے کے بعد پہلے اندھا دھند فائرنگ کی۔ سعودی سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کا محاصرہ کیا اور کم سے کم وقت میں دہشت گردوں پر قابون کر لیا۔ سنہ 2003ء سے 2007ء تک سعودی عرب میں تعینات امریکی سفیر جیمز اوپریٹر نے بتایا کہ "میں اس وقت ریاض میں اپنے دفتر میں مصروف تھا کہ مجھے اطلاع ملی کہ جدہ کے قونصل جنرل سے ہنگامی کال آئی ہے۔ میں ہر طرح کے حالات سے نمٹنے کے لیے تیار تھا۔ جدہ قونصل خانے پر حملے کی اطلاع ملتے ہی ہم فوری طور پر قونصل خانے پہنچے۔ ہمارے پہنچنے سے قبل ہی سعودی پولیس نے تین دہشت گردوں کو ہلاک اور دو کو گرفتار کر کے آپریشن مکمل کر لیا تھا۔ دہشت گردوں کی فائرنگ سے کچھ پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں