شام میں داعش کے ''دارالخلافے'' پر فضائی حملے، 32 ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام میں سخت گیر جنگجو گروپ داعش کے ''دارالحکومت'' الرقہ میں امریکی اتحادیوں کے لڑاکا طیاروں کی بمباری میں بتیس جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کے سربراہ رامی عبدالرحمان نے بتایا ہے کہ امریکا کی قیادت میں اتحاد کے لڑاکا طیاروں نے اتوار کے روز الرقہ میں داعش کے مختلف ٹھکانوں پر پندرہ فضائی حملے کیے ہیں اور ان میں چالیس سے زیادہ جہادی زخمی بھی ہوئے ہیں۔

انھوں نے شام میں موجود اپنے نیٹ ورک کے حوالے سے بتایا ہے کہ ان فضائی حملوں میں الرقہ شہر کے شمال ،مشرق اور جنوب مشرق میں داعش کے اڈوں اور ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

رامی عبدالرحمان کا کہنا ہے کہ ان فضائی حملوں میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کے اعداد وشمار صرف ایک اسپتال سے دستیاب ہوسکے ہیں اور سکیورٹی کی پابندیوں کی وجہ سے دوسرے اسپتالوں یا طبی مراکز تک ان کے ذرائع کی رسائی نہیں ہوسکی ہے۔اس لیے مہلوکین اور زخمیوں کی تعداد اس سے زیادہ ہوسکتی ہے۔

واضح رہے کہ داعش نے جنوری 2014ء میں الرقہ پر قبضہ کیا تھا اور وہاں سے مختلف باغی گروپوں کو لڑائی کے بعد نکال باہر کیا تھا۔شام کے باغی گروپوں نے اس سے ایک سال پہلے شامی صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کو شکست دینے کے بعد اس شہر پر قبضہ کرلیا تھا۔

داعش نے گذشتہ سال جون میں اپنی خلافت کے اعلان کے بعد اس شہر کو اپنا''دارالخلافہ'' قرار دیا تھا۔اس شہر پر شامی فوج اور امریکا کی قیادت میں اتحاد کے لڑاکا طیاروں نے گذشتہ ایک سال کے دوران داعش کے ٹھکانوں پر متعدد فضائی حملے کیے ہیں۔30 ستمبر سے روس بھی الرقہ میں داعش کے ٹھکانوں پر فضائی بمباری کررہا ہے۔

برطانیہ کی شاہی فضائیہ نے بھی جمعرات سے شام میں داعش کے خلاف فضائی حملوں کا آغاز کیا ہے۔اس کے طیاروں نے بھی سب سے پہلے صوبے الرقہ ہی میں داعش کے زیر قبضہ تیل کی تنصیبات کو اپنی بمباری میں نشانہ بنایا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں