ریاض کانفرنس میں تمام شامی گروپوں کو شرکت کی دعوت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کی حکومت نے شامی اپوزیشن کے تمام دھڑوں سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنے کی خاطر رواں ماہ ریاض میں منعقدہ کانفرنس میں اپنی شرکت کو یقینی بنائیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سعودی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے شامی اپوزیشن کے تمام نمائندہ گروپوں کو ریاض کانفرنس میں شرکت کی باضابطہ دعوت دے دی ہے۔

خیال رہے کہ حال ہی میں سعودی عرب کی حکومت کی جانب سے کہا گیا تھا کہ وہ شامی اپوزیشن قوتوں کو باہم متحد کرنے کی غرض سے انہیں ریاض میں ایک کانفرنس میں جمع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس کانفرنس کا مقصد شامی حزب اختلاف کو ملک میں جاری کشیدگی کے خاتمے کے حوالے سے ایک موقف پر متحد کرنا ہے۔

سعودی وزارت خارجہ کے ایک عہدیدار نے اپنے بیان میں بتایا کہ ریاض حکومت شام کے بحران کے حل کے سلسلے میں سیاسی مدد جاری رکھے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ 14 نومبر 2015ء کو دوسرے ویانا اجلاس کے دوران بھی یہ طے پایا تھا کہ شام کے بحران کے حل کے لیے حزب اختلاف کی تمام نمائندہ جماعتوں کو ایک موقف پر متحد کرنے کے لیے کوششیں تیز کی جائیں گی تاکہ سنہ 2012ء کو ہونے والے پہلے جنیوا اجلاس کے تحت شام میں پر انتقال اقتدار کا مرحلہ طے کیا جا سکے۔

اسی مقصد کے لیے سعودی عرب نے حال ہی میں شام کی اعتدال پسند حکومت مخالف قوتوں کو ریاض میں ایک کانفرنس میں شریک کرنے کا اعلان کیا تھا۔ سعودی حکومت کی طرف سے کہا گیا تھا کہ یہ کانفرنس 8 سے 10 دسمبر کو ریاض میں منعقد ہو رہی ہے، جس میں شامی حزب اختلاف کی تمام نمائندہ قیادت شامل ہو گی۔ ریاض حکومت کی طرف سے شامی اپوزیشن کو مسلک، سیاسی نظریات اور نسل اور قومیت کی تفریق کے بغیر کانفرنس میں شرکت پر مدعو کیا ہے۔

سعودی حکومت کے ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ حکومت شامی اپوزیشن کی قیادت کو ریاض لانے اور انہیں کی آمد و رفت کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کرے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں