یمن: سابق صدر اور داعش گورنر کے قتل کے ملزم قرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

یمن میں گذشتہ روز عدن شہر کے گورنر جنرل جعفر محمد سعد اور ان کے ساتھیوں کی ہلاکت کی ذمہ داری سابق منحرف صدرعلی عبداللہ صالح اور شدت پسند گروپ "داعش" پرعاید کی جا رہی ہے۔ یمن کے ڈائریکٹر جنرل برائے پولیس کا کہنا ہے کہ عدن کے گورنر کی ہلاکت کی ذمہ داری حکومت مخالف عسکری گروپوں پرعاید ہوتی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ اور العربیہ ٹی وی کے ذرائع کے مطابق عدن کے گورنر کی اپنے چھ ساتھیوں سمیت ہلاکت کے بعد حوثی باغیوں کے خلاف کارروائی میں شدت لانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ حکومتی حلقوں کی جانب سے گورنر کے قتل کو ملک میں جاری سیاسی اور عسکری شورش ہی کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ یمن میں باغیوں کے حملوں میں کسی اعلیٰ عہدیدار کی ہلاکت کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ انتہا پسند تنظیمیں ماضی میں بھی یمن کی ابین گورنری میں اس نوعیت کی وارداتیں کر چکے ہیں۔

یمن کے سابق منحرف صدرعلی عبداللہ صالح اور شدت پسند گروپوں کے درمیان باہمی تعلق کوئی نئی بات نہیں ہے۔ یہ تعلق سنہ 1990ء کے عشرے سے جاری و ساری ہے۔ یمن کے مقامی صحافی اور تجزیہ نگار سعید محمد کا کہنا ہے کہ 90 ء کے عشرے میں علی صالح نے افغانستان سے واپس ہونے والے جنگجوئوں کو اپنے ہاں پناہ دینا شروع کر دی تھی۔ یہ لوگ نہ صرف یمن میں پناہ حاصل کرتے رہے بلکہ علی عبداللہ صالح کی وفاداری کے تحت انہوں نے اشتراکی پارٹی کے سرکردہ رہ نمائوں کو چن چن کر ہلاک کیا۔ حالانکہ یمن کی اشتراکی جماعت ملک کی وحدت اور اس کی سالمیت میں علی عبداللہ صالح کا دست راست تھی۔ سنہ 1994ء میں سوشلسٹوں اور کارل مارکس کے پیروکاروں کے خلاف علی عبداللہ صالح نے اعلان جہاد کیا تو القاعدہ کے یہی جنگجو اس وقت بھی صدر صالح کے ساتھی بنے اور ان کی مدد سے بڑی تعداد میں سیاسی قتل کیے گئے۔

یمنی تجزیہ نگار کا کہنا تھا کہ 11 ستمبر 2001ء کو امریکا میں ہونے والی دہشت گردی کے واقعات کے بعد علی صالح نے خود کو امریکا کا اتحادی باور کرانے کی کوشش کی اور دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں شامل ہو گئے، مگرامریکیوں کو بھی جلد ہی اندازہ ہو گیا کہ علی صالح انہیں بلیک میل کر رہے ہیں۔ یمن میں موجود القاعدہ جنگجو بھرپور سیاسی، عسکری اور مالی امداد حاصل کرتے رہے۔ صنعاء کی ایک جیل سے القاعدہ کے چوٹی کے 23 جنگجوئوں کے فرار کے واقعے نے علی صالح اور القاعدہ کے درمیان درپردہ گٹھ جوڑ کو بے نقاب کر دیا تھا۔

ابین گورنری کے بارے میں بات کرتے ہوئے یمنی تجزیہ نگار کا کہنا تھا کہ یہ گونری پچھلے کئی سال سے القاعدہ جنگجوئوں کا اہم ٹھکانہ رہی ہے۔ سنہ 2010ء میں یہاں پر خلیجی فٹبال چیمپین شپ منعقد کی گئی تو پورے عرصے میں ایک گولی تک نہیں چلائی گئی۔ اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ القاعدہ کے جنگجو کسی بھی کارروائی سے قبل صدر علی صالح سے ہدایات حاصل کرتے تھے۔ چونکہ علی صالح نے ابین میں القاعدہ کو گڑ بڑ پھیلانے سے منع کیا تھا اس لیے القاعدہ نے کسی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہیں کی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں