.

عراقی ڈاکٹر گھر میں درجنوں یتمیوں کا کفیل بن گیا

امریکی جنگ کے نتیجے میں لاکھوں بچے یتیم اور مکمل خاندان تباہ ہوئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

#عراق سے آنے والی عموما خبریں میں بمباری، بم دھماکوں اور ان کے نتیجے میں بے گناہ شہریوں کی ہلاکتوں جیسی اطلاعات پر مشتمل ہوتی ہیں مگرعراق کے مقتل میں انسان دوستی کی ایک منفرد مثال قائم کرنے کی خبر بھی ان دنوں عرب ذرائع ابلاغ کی توجہ کا خاص مرکز ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے عرب ذرائع ابلاغ کے حوالے سے مرتب کردہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ عراق کے ایک نفسیاتی معالج نے یتیم بچوں کی کفالت کے لیے اپنے گھر میں ایک یتیم خانہ کھولا ہے جس میں اب تک 30 سے زاید بچوں کے قیام، طعام، لباس اور تعلیم کا بندو بست کیا گیا ہے۔

سماجی کارکن اور نفسیاتی معالج ھشام الذہبی کا کہنا ہے کہ اس کے پاس وسائل محدود ہیں ورنہ ملک میں کفالت کے مستحق یتیم بچوں کی تعداد شمار قطار سے باہر ہے۔ 45 سالہ ھشام الذھبی نے ایک غیرملکی خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس نے سنہ 2006ء میں عراق کے یتیم بچوں کی کفالت اور انہیں محفوظ ٹھکانہ مہیا کرنے کی غرض سے ایک تنظیم قائم کی تھی۔

اسی سال ان کے ایک ساتھی ریسرچر کو قتل کر دیا تھا جس کے بعد تنظیم بھی ختم کردی گئی تھی۔ جن یتیم بچوں کی کفالت کی ذمہ داری اٹھائی گئی تھی ان کے ساتھ مسلسل رابطہ قائم رہا۔ تین سال پیشتر بچوں کے اصرار پر دوبارہ ان کی کفالت کا ذمہ لے لیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے ایک فلیٹ کرائے پر حاصل کیا گیا جہاں سڑکوں پر رُلنے وانے بچوں کو محفوظ ٹھکانہ مہیا کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ کوئی روایتی طرز کا یتیم خانہ نہیں۔ اس میں چھ سے 17 سال کے 33 یتیم بچوں کی کفالت کی جا رہی ہے۔

زیرکفالت یتیم بچوں کی تعلیم سے متعلق سوال کے جواب میں ھشام الذہبی نے کہا کہ وہ ان بچوں کو بنیادی تعلیم دینے کے ساتھ ساتھ مختلف اقسام کے ہنر بھی سکھانے کی کوشش کررہے ہیں تاکہ وہ اپنے پائوں پر کھڑے ہونے کے قابل ہوسکیں۔ ان بچوں کو سماجی ، نفسیاتی اور طبی خدمات انجام دینے کی بھی تربیت دی جا رہی ہے۔

خیال رہے کہ سنہ 2003ء میں امریکی فوج کی عراق پر یلغار کے بعد ملک بدترین تباہی اور بربادی سے دوچارہوا ہے۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کے مطابق عراق جنگ میں دس لاکھ کے قریب لوگ لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ امریکی جنگ کے نتیجے میں لاکھوں بچے یتیم اور پورے پورے خاندان تباہ ہوچکے ہیں۔