.

فلسطینی خاتون پارلیمنٹرین کو اسرائیلی عدالت سے سزائے قید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک اسرائیلی فوجی عدالت نے فلسطینی خاتون رکن پارلیمان کو ایک کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے اور عوام میں اشتعال بڑھانے کے الزام میں 15 ماہ قید کی سزا سنا دی ہے۔

خالدہ جرار کے خلاف اسرائیلی عدالت میں چلنے والے اس مقدمے کی سماعت نے بہت توجہ حاصل کی ہے۔ خالدہ غرب اردن کی ایک معروف شخصیت ہیں اور وہ اسرائیل کے خلاف اپنی تقاریر کی وجہ سے کافی شہرت رکھتی ہیں۔

خالدہ جرار کو ماہ اپریل کے دوران اسرائیل کی جانب سے عائد سفری پابندیوں کو توڑنے کے جرم میں حراست میں لیا گیا تھا۔ اسرائیل نے خالدہ جرار کے آبائی شہر رام اللہ میں داخلے پر پابندی لگا رکھی تھی۔ ان پر دوران حراست ہی اشتعال انگیزی اور کالعدم تنظیم میں شمولیت کے الزامات قائم کئے گئے ہیں۔

فلسطینیوں کا ماننا ہے کہ خالدہ جرار کو سیاسی وجوہات کی بناء پر نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جرار کے خلاف موجود شواہد بہت کمزور ہے اور ان کی موجودگی سے عوام کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے۔

ایک سینئیر فلسطینی عہدیدار حنان عشراوی کا کہنا ہے کہ اس سزا کی کوئی قانونی بنیاد نہیں ہے۔ تنظیم آزادی فلسطین کی ایگزیکیٹو کمیٹی کی ترجمانی کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ سزا خالدہ جرار کو حاصل پارلیمانی استشنیٰ کی خلاف ورزی ہے اور انہیں فوری رہا کیا جائے۔

حنان کا کہنا تھا کہ "فوجی عدالت کے اقدامات کے پیچھے سیاسی مقاصد کارفرما ہیں اور یہ فلسطینی سیاست دانوں پر ایک براہ راست حملہ ہے۔ یہ مناسب وقت ہے کہ فلسطینی عوام کے ساتھ انسانیت سوز سلوک کو ختم کیا جائے۔"

خالدہ جرار سیکولر اور بائیں بازو کی طرف مائل سیاسی تنظیم عوامی فرنٹ برائے آزادی فلسطین کی ایک سینئر رکن ہیں۔ ان کی جماعت اسرائیل کے ساتح موجود حالات میں امن کی مخالف ہے۔

ایک بیان میں اسرائیلی فوج نے بتایا ہے کہ جرار کو ایک معاہدے کے تحت ان کی تنظیم کی رکنیت اور فلسطینیوں کو اسرائیلی فوجیوں کے اغوا کی ترغیب دینے کے الزامات میں سزا سنائی گی گئی ہے اور ان کی سزا میں ان کی موجودہ مدت حراست شامل ہوگی۔

جرار ان فلسطینی کارکنوں میں بھی شامل ہیں جو کہ اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کے مقدمات کو عالمی فوجداری عدالت میں پیش کرنا چاہتی ہیں۔ انہوں نے وقتا فوقتا فلسطینی اتھارٹی کو اسرائیل کے ساتھ جاری سیکیورٹی تعاون پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔