.

شامی تنازعے کے سیاسی حل کے لیے پُرعزم ہیں: خالد خوجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کی اعتدال پسند حزب اختلاف ''شامی قومی اتحاد''(ایس این سی) کے سربراہ خالد خوجہ نے کہا ہے کہ تنازعے کے سیاسی حل کے لیے ایک مشترکہ وژن موجود ہے۔

خالد خوجہ سعودی عرب کے زیر اہتمام قومی مشاورتی کانفرنس میں شرکت کے لیے الریاض میں ہیں۔انھوں نے کہا کہ اس کانفرنس کا مقصد جنیوا اوّل سمجھوتے اور ویانا کانفرنسوں کی بنیاد پر آیندہ عبوری مرحلے کے لیے اتفاق رائے سے ایک مشترکہ دستاویز کی تیاری ہے اور اس کا ایک بڑا مقصد منقسم حزب اختلاف کو متحد کرنا ہے۔

گذشتہ ماہ ویانا میں سترہ ممالک کے وزرائے خارجہ اور دوسرے اعلیٰ عہدے داروں نے عبوری حکومت کے قیام کے لیے ایک نظام الاوقات سے اتفاق کیا تھا۔اس کے تحت آیندہ چھے ماہ میں ایک عبوری حکومت قائم کی جائے گی اور اٹھارہ میں نئے انتخابات کرائے جائیں گے۔

مبصرین نے العربیہ نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ الریاض کانفرنس شام میں جاری بحران کے حل اور حزب اختلاف کے دھڑوں کو متحد کرنے کے لیے آخری موقع ہے لیکن اگر شرکاء مشترکہ مؤقف اختیار کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو پھرشام کے صومالیہ بن جانے کا خطرہ موجود رہے گا۔

شام کی اعتدال پسند حزب اختلاف کے مختلف گروپوں کی سرکردہ شخصیات الریاض میں بدھ کو شروع ہونے والی اس کانفرنس میں شریک ہیں۔وہ کانفرنس کے دوران شامی حکومت کے ساتھ مستقبل میں ہونے والے امن مذاکرات کے لیے کوئی مشترکہ لائحہ عمل ترتیب دینے کی کوشش کریں گے۔

سعودی عرب کا کہنا ہے کہ وہ ان گروپوں کو آپس میں آزادانہ طریقے سے صلاح مشورے اور بات چیت کے لیے ہر ممکن سہولت مہیا کرنے کو تیار ہے تاکہ وہ جنیوا اول سمجھوتے کے مطابق تنازعے کے حل کے لیے کسی ایک مشترکہ مؤقف پر متفق ہوجائیں۔

جنیوا اول سمجھوتے پر 2012ء میں منعقدہ امن کانفرنس کے دوران دستخط کیے گئے تھے۔اس میں شام میں عبوری حکومت کے قیام کے لیے لائحہ عمل وضع کیا گیا تھا اور شامی صدر بشارالاسد پر زوردیا گیا تھا کہ وہ ایک انتظامی کونسل کے حق میں فوری طور پر دستبردار ہوجائیں۔اس میں شامی حکومت اور حزب اختلاف کی شخصیات کو عبوری حکومت میں مساوی نمائندگی دینے کی تجویز پیش کی گئی تھی۔

الریاض مذاکرات میں شامی حزب اختلاف کے مختلف گروپوں سے تعلق رکھنے والی قریبا ایک سو شخصیات شرکت کررہی ہیں۔ان میں مغرب کے حمایت یافتہ شامی قومی اتحاد اور دمشق میں قائم قومی رابطہ کمیٹی برائے جمہوری تبدیلی (این سی سی) اور مسلح گروپوں جیش الاسلام ،جیش الحر اور احرار الشام کے نمائندے شامل ہیں۔ان کے علاوہ تعمیر برائے شامی ریاست کے صدر اور شریک بانی لوئے حسین بھی مذاکرات میں شرکت کے لیے آئے ہیں۔اس سیاسی تحریک میں مختلف نظریاتی پس منظر رکھنے والی شخصیات شامل ہیں۔

واضح رہے کہ شامی حزب اختلاف اور باغی گروپوں کے درمیان ملک میں گذشتہ ساڑھے چار سال سے جاری خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے اتفاق رائے نہیں پایا جاتا ہے اور وہ خاص طور پر صدر بشارالاسد کے مستقبل کے حوالے سے منقسم ہیں۔

بعض گروپ بشارالاسد کی فوری رخصتی چاہتے ہیں اور ان کی اقتدار سے علاحدگی تک شامی حکومت کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے لیے تیار نہیں ہیں۔اس مشاورتی اجلاس کے بعد شام کے مختلف دھڑوں کے درمیان 18 دسمبر کو نیویارک میں کانفرس ہوگی اور اس میں یکم جنوری تک شامی صدر بشارالاسد کی حکومت سے براہ مذاکرات کے آغاز کے لیے لائحہ عمل ترتیب دیا جائے گا۔