.

عراق، لبنان اور شام کی سرحدیں مٹانے کا مطالبہ

ایران، شام میں اپنے دفاع کی جنگ لڑ رہا ہے: جنرل محمد علی جعفری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی پاسداران انقلاب کے جنرل کمانڈر ان چیف جنرل محمد علی جعفری نے عراق، لبنان اور شام کی ایک دوسرے سے متصل سرحدوں کو ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ان تینوں ملکوں کو ’’مزاحمت کا محور‘‘ قرار دیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب کے سربراہ جنرل جعفری نے ایران کے عرب اکثریتی صوبہ اھواز فوجیوں کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شام میں فوجی مداخلت کا دفاع کیا۔ انہوں نے کہا کہ شام میں ایران کی مداخلت تہران کے دفاع اور سلامتی کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ شام میں ایران اور روس یک فریق کی حیثیت سے جنگ لڑ رہے ہیں۔

جنرل جعفری کا کہنا تھا کہ شام میں ان کی فوجی موجودگی تہران کی سلامتی کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ شام کی جنگ عالم اسلام اور پوری دنیا کے مستقبل کا تعین کرے گی۔

ایرانی فوجی عہدیدار نے امریکی حکومت کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ امریکا مسلمان ممالک کے خلاف جنگ کی صلاحیت نہیں رکھتا تاہم وہ ایران کو تہران کے جوہری پروگرام کی آڑ میں مشکلات سے دوچار کرنے کی سازشوں میں ضرور مصروف ہے۔
سرحدوں کا وجود ختم کرنے کا مطالبہ

ایرانی پاسداران انقلاب کے سربراہ جنرل محمد علی جعفری نے کہا کہ عراق، لبنان اور شام مزاحمت کے محوری ممالک ہیں۔ ان تینوں ممالک کی وحدت اور سلامتی کے لیے ان کے درمیان سرحدوں کا وجود ختم کردیا جانا چاہیے تاکہ وہاں کے عوام مل کر مشترکہ دشمن کی جارحیت کے خلاف لڑائی لڑسکیں۔

خیال رہے کہ جنرل جعفری کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب شام میں ایرانی فوج کی تعداد میں اضافے کی اطلاعات ہیں۔۔ حال ہی میں ایک امریکی عہدیدار نے دعویٰ کیا تھا کہ شام کے محاذ جنگ پر 2000 سے زیادہ ایرانی فوجی براہ راست جنگ میں شریک ہیں۔ ایران کی جانب سے دعویٰ کیا جاتا رہا ہے کہ دمشق میں اس کے فوجیوں کی آمد صرف مشاورتی کے لیے ہے۔