روس کی 'فرینڈلی' بمباری، شام میں 4 ایرانی فوجی ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران کے حکومت مخالف ذرائع ابلاغ نے شام میں روس کی 'فرینڈلی بمباری' کی زد میں آنے والے پاسداران انقلاب کے چار اہلکاروں کی ہلاکت کا دعوی کیا ہے۔ روسی فرینڈلی بمباری کا نشانہ بننے والے ان ستر ایرانی فوجی اہلکاروں میں شامل ہیں جو شام کے مختلف علاقوں میں گذشتہ ایک ہفتے کے دوران ہونے والی لڑائی کے دوران ہلاک ہوئے۔

لندن سے فارسی میں نشریات پیش کرنے والے سیٹلائیٹ چینل 'میں اور تو' نے ذرائع کے حوالے سے اپنی حالیہ رپورٹ میں بتایا کہ روسی گولا باری کا نشانہ بننے والے چاروں پاسداران انقلاب کے اہلکار 'الحسن المجتبی' بریگیڈ سے تعلق رکھتے تھے اور وہ غلطی سے روسی بمباری کا نشانہ بنے۔ اسی لئے ایرانی حکام نے اس حادثے میں ہونے والے اپنے فوجی جانی نقصان کا اعلان نہیں کیا۔

رپورٹ کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ شامی حکومت کی روسی فوج کو فراہم کردہ غلط اطلاعات کی بنا پر ایرانی فوجیوں پر 'غلطی' سے گولا باری کی گئی، جس میں وہ جان سے گئے۔

روس کی 'دوستانہ بمباری' میں جان گنوانے والے ایرانی اہلکاروں میں دو کا تعلق الحسن المجتبی بریگیڈ سے تھا اور ان کی شناخت سید اصغر جرغندی اور احسان فتحی کے نام سے کی گئی ہے۔ مارنے جانے والے تیسرے ایرانی فوجی سيد مجتبى أبو القاسمی دزفول کی باسیج ملیشیا کے اہم رکن تھے۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی 'ایرنا' کے مطابق انہیں گذشتہ روز دزفول کے علاقے میں اعلی فوجی اور سول حکام کی موجودگی میں سپرد خاک کیا گیا۔ مارے جانے والے چوتھے اہلکار کا تعلق پاسداران انقلاب کے رامھرمز میں تعینات یونٹ سے بتایا جاتا ہے، خبر رساں اداروں نے ان کا نام ابھی تک ظاہر نہیں کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں