اسرائیلی راہ گیروں پر کار چڑھانے والا فلسطینی قتل ،9 زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مقبوضہ بیت المقدس میں ایک فلسطینی ڈرائیور نے مبینہ طور پر راہ گیروں پر اپنی گاڑی چڑھا دی ہے جس کے نتیجے میں نو افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ان مسلح راہ گیروں نے اس فلسطینی کو موقع پر ہی گولی مار کر موت کی نیند سلا دیا ہے۔

اسرائیلی پولیس کی خاتون ترجمان لوبا سامری نے فلسطینی مقتول کی شناخت عبدالمحسن حسنہ کے نام سے کی ہے۔اس کی عمر اکیس سال تھی اور وہ مقبوضہ مشرقی القدس کے علاقے بیت حانینا کا رہنے والا تھا۔ترجمان کا کہنا ہے کہ اس کی گاڑی سے ایک ہتھوڑا بھی برآمد ہوا ہے اور اس کو راہ گیروں ہی نے گولی مار کر موت کی نیند سلایا ہے۔

اسرائیلی چینل 2 ٹی وی نیوز نے ایک سفید رنگ کی مزدا گاڑی کی فوٹیج نشر کی ہے۔وہ ایک مصروف شاہراہ پر واقع ایک بس اسٹیشن کے ساتھ ٹکرائی ہوئی تھی۔

واضح رہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے اور بیت المقدس میں اسرائیلی سکیورٹی فورسز کی یکم اکتوبر سے جاری کارروائیوں میں ایک سو پندرہ فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔ان میں نصف سے زیادہ کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ مبینہ طور پر حملہ آور تھے اور ان کے چاقو حملوں ،فائرنگ اور گاڑیوں کو راہ چلتے لوگوں پر چڑھانے سے انیس اسرائیلی ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔

اسرائیلی فورسز مبینہ طور پر چاقو حملے کرنے والے فلسطینی نوجوانوں کے خلاف طاقت کا وحشیانہ استعمال کررہی ہے اور اسرائیلی فوجی معمولی سا شک گزرنے پر بھی فلسطینی مرد وخواتین کو سر یا سینے میں گولی مار دیتے ہیں جس سے وہ موقع پر ہی ڈھیر ہوجاتے ہیں۔اسرائیلی حکام نے سکیورٹی فورسز کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس اور غربِ اردن سے تعلق رکھنے والے فلسطینیوں کے خلاف طاقت کے بے مہابا استعمال کے واقعات کی تحقیقات شروع کردی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں