.

دہشت گردی کے خلاف ریاض کی قیادت میں مسلم دنیا متحد

اتحاد میں پاکستان، بنگلہ دیش، اردن اور سوڈان بھی شامل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کو منظم اور نتیجہ خیز بنانے کے لیے سعودی عرب کی قیادت میں 35 مسلمان ممالک نے ایک نیا فوجی اتحاد تشکیل دیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق دہشت گردی کے خلاف جنگ کی مانیٹرنگ کے لیے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ایک مشترکہ کنٹرول روم قائم کیا جائے گا۔ اس کنٹرول روم سے نہ صرف دہشت گردی کی مانیٹرنگ کی جائے گی بلکہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے مکمل حکمت عملی وضع کرتے ہوئے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔

سعودی عرب میں مسلمان ملکوں کے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں دہشت گردی کی بیخ کنی اور عالمی امن وسلامتی کو یقینی بنانے کے لیے موثر حکمت عملی وضع کرنے اور دوست ممالک میں باہمی رابطوں کو مزید بہتر بنانے پر اتفاق کیا گیا۔

دہشت گردی کے خلاف سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد کی تشکیل میں کئی عرب اور مسلمان ممالک نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ سعودی عرب کے علاوہ اردن، متحدہ عرب امارات، پاکستان، بحرین، بنگلہ دیش، لبنان، ترکی، چارڈ، توگو، تیونس، جیبوتی، سنیگال، سوڈان، سرالیون، صومالیہ، گابون، گینیا، فلسطین، قطر، کویت، دارفر، لیبیا، مالدیپ، مالی، ملائیشیا، مصر، مراکش موریتانیہ، نائیجیریا، یمن اور یوگنڈا شامل ہیں۔

جمہوریہ انڈونیشیا سمیت 10 دوسرے ممالک نے بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے اسلامی ممالک کے اتحاد کی تائید کا اعلان کرتے ہوئے اس میں شمولیت کا عندیہ دیا ہے۔

ریاض میں ہونے والے اجلاس کے بعد جاری کردہ مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردی ، انسانیت کے خلاف وحشیانہ جرائم اور فساد فی الارض ناقابل معافی جرائم ہیں جو نہ صرف انسانی نسل کی تباہی کا موجب بن رہے ہیں بلکہ بنیادی حقوق کی پامالی اور انسانی عزت و احترام کے لیے بھی نہایت خطرناک ہیں۔ دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے تمام مسلمان ممالک سعودی عرب کی قیادت میں متحد ہیں۔ دہشت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا جائے گا۔