.

مرشد اعلیٰ کے جانشین پرغور کے لیے کمیٹی قائم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سابق صدرعلی اکبر ہاشمی رفسنجانی نے کہا ہے کہ رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ علی خامنہ ای کے جانشین کے تقرر کے لیے ایک کمیٹی قائم کی گئی ہے جو ریاست کے اس اعلیٰ ترین عہدے کے لیے مختلف ناموں پر غور کر رہی ہے۔ ایران میں سپریم لیڈر کے تقرر کا معاملہ پہلی بار منظرعام پر لایا گیا ہے۔ ماضی میں اس حوالے سے اعلانیہ بات چیت کرنا حرام سمجھا جاتا تھا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کےمطابق ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے جانشین کے حوالے سے کمیٹی کا قیام ایک ایسے وقت میں عمل میں لایا گیا ہے جب 75 سالہ خامنہ ای کی پروسٹیٹ کینسر کی سرجری کے بعد منظرعام سے غائب رہنے لگے ہیں۔ ان کی مسلسل بگڑتی صحت کے باعث تہران کے حکومتی حلقے نئے سپریم لیڈر کے تقرر کے لیے فکرمند ہیں۔

اگرچہ فی الوقت ایران کے سپریم لیڈر کے حوالے سے کسی شخصیت کے نام پر اتفاق نہیں کیا گیا، اس لیے آئندہ سال فروری میں ہونے والے ماہرین کونسل کے انتخابات کے بعد یہ سپریم لیڈر کی تقرری کا معاملہ زیادہ شدت کے ساتھ زیربحث آ سکتا ہے۔

صدر حسن روحانی اور ان کے حلیفوں کو توقع ہے کہ وہ تہران کے جوہری پروگرام پرعالمی طاقتوں سے سمجھوتے کے نتیجے میں حاصل ہونے والی عوامی مقبولیت کو من پسند سپریم لیڈر کے چناو، آئندہ سال ہونے والے ماہرین کونسل اور پارلیمانی انتخابات میں کامیابی کے لیے استعمال کر سکیں گے۔

ایران کی ایک خبر رساں ایجنسی نے ایک حالیہ خبر میں صدر روحانی گروپ میں شامل سابق صدر رفسنجانی کا بیان نقل کیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ ماہرین کونسل ضرورت پڑنے پر نئے سپریم لیڈر کے تقرر کے لیے متحرک ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماہرین کونسل کے ارکان اب بھی مختلف آپشنز پرغور کر رہے ہیں۔

ایران میں سپریم لیڈر کے تقرر کے حوالے سے بحث پہلی بار منظرعام پر آئی ہے۔ سابق صدر ھاشمی رفسنجانی کا کہنا ہے کہ ماہرین کونسل میں شامل بعض اہم رہ نمائوں کے ناموں پر غور کیا جا رہا ہے کہ آیا ان میں سے کون سپریم لیڈر کے عہدے کا اہل ہو سکتا ہے۔

خیال رہے کہ ماہرین کونسل 82 ارکان پر مشتمل سپریم ادارہ ہے جو براہ راست سپریم لیڈر کو جواب دہ ہے۔ اس سے قبل کونسل کے ارکان کا چناؤ ، کسی رکن کی برطرفی اوراپنے نائب [جانشین] نائب کے تقرر کا فیصلہ بھی سپریم لیڈر خود کرتے رہے ہیں۔