روسی فوج اللاذقیہ کی سنی آبادی میں داخلے سے گریزاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام میں صدر بشارالاسد کے دفاع کے لیے آئی روسی فوج پر جہاں حکومت نواز گروپوں سے تعاون کا الزام عاید کیا جاتا ہے وہیں ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سنی اکثریتی شہر اللاذقیہ میں بھی روسی فوجی اہل سنت مسلک کے علاقوں میں داخل ہونے سے گریزاں ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق روسی صحافی ’’دیمتری فینوگراڈوف‘‘ نے حال ہی میں ’’شام میں روسی ہواباز۔۔ موت بانٹنے اور زندگی کی امید دلانے میں سرگرم‘‘ کے عنوان سے ایک رپورٹ مرتب کی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صرف روسی صحافی ہی نہیں بلکہ روسی فوجی بھی اللاذقیہ کی سنی اکثریتی کالونیوں بالخصوص الرمل فلسطینی کالونی میں داخل ہونے سے گریزاں ہیں۔

رپورٹ میں یہ بات تسلیم کی گئی ہے کہ ان علاقوں میں روسی فوج کی کارروائیاں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ حالانکہ ان علاقوں میں صدر بشارالاسد کے حمایتی اور روس کی فوجی مداخلت کے حامیوں کی تعداد بہت کم ہے۔ یہاں پر صدر اسد کی فوجیوں کا کنٹرول بھی قائم نہیں ہے۔ البتہ شامی فوج پر یہ الزام ضرور ہے کہ وہ اللاذقیہ کی سنی اکثریتی کالونیوں میں بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنے کے لیے فضائی حملے کرتا رہا ہے۔ ان الزامات کی تصدیق وہاں کی تصاویر اور ویڈیو فوٹیجز میں بھی ہو رہی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اللاذقیہ کی سنی اکثریتی کالونیوں میں زندگی معمول کے مطابق رواں دواں ہے۔ وہاں کے باشندوں بالخصوص خواتین میں جنگ کی کوئی علامت دکھائی نہیں دیتی۔ ہوٹل معمول کے مطابق چل رہے ہیں۔ لوگ صبح اور شام کی تفریحی مجالس بھی ماضی کی طرح منعقد کرتے ہیں۔ تعطیلات کے ایام میں رقص موسیقی کی محافلیں بھی سجائی جاتی ہیں۔ شہر میں پیراکی کرنے والی خواتین کو پیراکی کے لباس میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اپنی کالونیوں میں اسلامی شدت پسندوں کا دخلہ بند کر رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ روس ان کالونیوں کو اپنے حامیوں کے لیے ایک دفاعی حصار قرار دے کر انہیں نہ چھیڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں