شامی زندانوں میں قیدیوں سے غیرانسانی سلوک جاری

قیدیوں کی اذیت رسانی پر مبنی ہزاروں تصاویر منظرعام پر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ’’ہیومن رائیٹس واچ‘‘ نے شام میں سرکاری فوج کے زیرانتظام جیلوں میں ڈالے گئے لوگوں کے ساتھ انسانیت سوز سلوک کی منہ بولتی ہزاروں تصاویر کے سامنے آنے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شام کی سرکاری جیلوں میں قیدیوں سے غیرانسانی سلوک جاری ہے جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیم نے ’’اگر مُردے بات کر سکتے ۔۔۔ شام کی جیلوں میں قیدیوں کا اجتماعی قتل عام اور انسانیت سوز مظالم‘‘کے عنوان سے جاری کردہ رپورٹ میں کہا ہے کہ سرکاری جیلوں میں قیدیوں سے بدسلوکی کی ہزاروں تصاویر اسدی فوجیوں کے ہاتھوں گرفتار کیے گئے شہریوں کے خلاف جنگی جرائم کے ارتکاب کے ناقابل تردید شواہد ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شام کی سرکاری جیلوں میں ڈالے گئے ہزاروں افراد کس طرح سسک سسک کر زندگی کی بازی ہار رہے ہیں وہ کیفیت ناقابل بیان ہے۔ قیدیوں کو انواع و اقسام کی اذیتیں دی جاتی ہیں۔ انہیں بھوکا اور پیاسا رکھا جاتا ہے، جان لیوا امراض کا کوئی علاج نہیں ہوتا، نیز تشدد کے آخری حربے استعمال کیے جاتے ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیم نے نو ماہ کی جان فشانی کے بعد شامی جیلوں میں قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی کی 28 ہزار تصاویر حاصل کی ہیں۔ ان میں قیدیوں تشدد کے ذریعے ہلاک ہوئے دکھایا گیا ہے۔ یہ تصاویر شام کی ملٹری پولیس کے ایک سابق فوٹو گرافر کے قبضے سے ملی ہیں جو جولائی 2013ء میں شام سے فرار ہو گیا تھا۔ اس نے کچھ تصاویر جنوری 2014ء کو شائع کی تھیں۔

نوے صفحات کو محیط رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انسانی حقوق گروپ کو 6 ہزار 786 قیدیوں کے بارے میں تفصیلات ملی ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں شام کی جیلوں میں پے پناہ مظالم کے ذریعے ہلاک کیا گیا۔ جیلوں اور فوجی اسپتالوں میں تشدد کے ذریعے ہلاک کیے گئے تمام شہریوں کو ملٹری انٹیلی جنس کے پانچ برانچوں سے وابستہ اہلکاروں نے حراست میں لیا تھا۔

انسانی حقوق کے مندوب برائے مشرق وسطیٰ و شمالی افریقا ندیم حوری کا کہنا ہے کہ منحرف ہونے والے فوجی فوٹو گرافر قیصر کی فراہم کردہ تصاویر نے شام کی جیلوں میں قیدیوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کو پوری دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پورے وثوق اور یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ شام کی سرکاری جیلوں میں ڈالے گئے افراد کے ساتھ جنگی جرائم کا ارتکاب کیا جاتا ہے۔ انسانی حقوق کو ملنے والی ہزاروں تصاویر اسدی گماشتوں کے جنگی جرائم کا ناقابل تردید ثبوت ہیں۔

الحوری نے کہا کہ ہیومن رائیٹس واچ کو شام کی جیلوں کی جو تصاویر حاصل ہوئی ہیں ان میں لڑائی کے دوران مارے جانے والے باغیوں کے اہل خانہ، بچے، ان کی بیویاں، والدین اور دیگر عزیزو اقارب شامل ہیں۔ جنہیں شامی فوج نے ڈھونڈ ڈھونڈ کر پکڑا اور پھر جیلوں میں اذیتوں کا نشانہ بناتے ہوئے موت کے نیند سلا دیا ہے۔ یہ سلسلہ اب بھی جاری و ساری ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیم نے جیلوں میں تشدد کے نتیجے ہلاک ہونے والے شہریوں کی ہزاروں تصاویر میں 27 افراد کی شناخت کی ہے۔ ان میں ایک چودہ سالہ بچہ احمد المسلمانی بھی شامل ہے۔ اسے سنہ 2012ء میں اسدی فوج نے ایک چیک پوائنٹ سے حراست میں لیا اور دوران حراست اسے قتل کر دیا گیا۔

خیال رہے کہ سنہ 2011ء میں شام میں صدر بشارالاسد کے خلاف شروع ہونے والی عوامی بغاوت کی تحریک کے بعد شامی فوج کی زیرانتظام جیلوں میں ہزاروں افراد کو موت کی نیند سلا دیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں