عراق: کرد ملیشیا نے داعش کا بڑا حملہ پسپا کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

عراقی کردوں کی البیشمرکہ فورسز نے شمالی صوبے نینویٰ میں داعش کے مختلف اطراف سے کیے گئے بڑے حملے کو پسپا کردیا ہے۔

کردستان کی علاقائی سکیورٹی کونسل (کے آر ایس سی) نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''داعش کے جنگجوؤں نے ترک فوجیوں کے ایک اڈے کے علاوہ نواران ،بشیقہ ،تل اسود ،خضر اور زردق پر حملہ کیا تھا۔داعش کے جنگجوؤں نے حالیہ مہینوں کے دوران اپنے کافی نقصان کے بعد البیشمرکہ کے دفاعی حصار کو توڑنے کی کوشش کی تھی''۔

کردستان کی علاقائی حکومت کے تحت البیشمرکہ فورسز کی ذمے دار وزارت کے سیکریٹری جنرل جبار یاور نے کہا ہے کہ ''داعش کے دہشت گردوں نے موصل کے شمال اور مشرق میں واقع بشیقہ ،نواران اور خضر کے علاوہ متعدد محاذوں پر بدھ کی رات کار بموں ،مارٹروں اور راکٹوں سے حملہ کیا تھا۔

کے آر ایس سی کے سربراہ اور کردستان کے علاقائی صدر مسعود بارزانی کے بیٹے مسرور نے دعویٰ کیا ہے کہ ان حملوں کے دوران داعش کے ستر جنگجو ہلاک ہوئے ہیں۔لیکن اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں ہے اور اس میں البیش المرکہ کی ممکنہ ہلاکتوں کا بھی کوئی حوالہ نہیں دیا گیا ہے۔

قبل ازیں بدھ کو ترک حکومت نے یہ اطلاع دی تھی کہ شمالی عراق میں اس کے بیس پر داعش کی گولہ باری سے چار فوجی زخمی ہوئے ہیں۔ترکی کرد صدر مسعود بارزانی کا قریبی اتحادی ہے اور اس نے اسی ماہ کے اوائل میں بشیقہ کے علاقے میں ایک اڈے پر اپنے فوجی بھیجے ہیں۔وہ کرد جنگجوؤں کو موصل شہر میں داعش کے خلاف لڑائی کے لیے تربیت دے رہے ہیں۔

عراقی حکومت نے موصل کے نزدیک ان ترک فوجیوں کی تعیناتی کی مخالفت کی تھی اور اس غیر مجاز تعیناتی کو اپنی علاقائی خود مختاری کی خلاف ورزی قرار دیا تھا لیکن ترکی کا بالاصرار کہنا تھا کہ اس نے معمول کے مطابق کرد ملیشیا کی تربیت کے لیے یہ فوجی تعینات کیے ہیں۔

یہ علاقہ البیشمرکہ کے کنٹرول میں رہا ہے لیکن یہ خود مختار کردستان کی سرحدوں سے باہر ہے اور صوبہ نینویٰ میں واقع ہے جس کا دارالحکومت موصل ہی ہے۔ترکی نے اسی ہفتے اس اڈے سے اپنے فوجیوں کی کچھ تعداد کو واپس بلا لیا ہے لیکن عراقی حکومت اس سے مکمل انخلاء کا مطالبہ کررہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں