.

حزب اللہ نواز پارلیمنٹرین ہنیبعل قذافی کےاغواء میں دھر لیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے مرد سابق مرد آہن معمر قذافی کے بیٹے ہنیبعل القذافی کے اغوا کے شبہے میں حزب اللہ نواز لبنانی پارلیمنٹرین حسن یعقوب کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ انہیں گذشتہ روز لبنانی پراسیکیوٹر جنرل کے انفارمیشن ونگ میں متذکرہ اغواء کے بارے میں تفتیش کے لئے بلوایا گیا تھا، جہاں سے انہیں گرفتار کر لیا گیا۔

حسن یعقوب کی گرفتاری کا حکم لبنان کے پراسیکیوٹر جنرل قاضی سمیر حمود نے دیا۔ یاد رہے حسن یعقوب، کے والد الشیخ محمد یعقوب 1978ء میں موسی الصدر کے ہمراہ لیبیا میں لاپتا ہو گئے تھے۔ حسن یعقوب پر الزام ہے کہ انہوں نے معمر القذافی کے بیٹے ہنیبعل القذافی کو اغوا کے بعد لبنان میں رکھا اور اس امر کی اطلاع حکام کو نہیں دی گئی۔ عرب روزنامہ 'الشرق الاوسط' میں شائع قاضی حمود کے بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ سابق پارلیمنٹرین ہنیبعل القذافی کے اغواء سے متعلق تفتیش مکمل ہونے تک زیر حراست رہیں گے۔

ہنیبعل القذافی کے اغواء سے متعلق سامنے آنے والی معلومات میں بتایا گیا تھا کہ انہیں شام میں سرگرم مافیا نے اٹھا کر حزب اللہ نواز لبنانی پارلیمنٹرین کے حوالے کیا جو انہیں ایک خفیہ فوجی راستے کے ذریعے لبنان لے آئے، جہاں انہیں لبنانی حکام کو اطلاع دیئے بغیر محبوس رکھا اور تشدد کا نشانہ بنایا۔

ادھر دوسری جانب زیر حراست حسن یعقوب کے بھائی علی یعقوب کا کہنا ہے کہ انہیں اپنے بھائی کی حراست کے بارے میں سرکاری طور پر کوئی اطلاع نہیں دی گئی۔ یہ امر باعث حیرت اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے استفسار کیا کہ میرے بھائی کو کیا اس لئے نظربند کیا گیا ہے کہ وہ اپنے والد کے کیس پر بات نہ کر سکیں؟

امام سید موسی الصدر اور صحافی عباس بدر الدین کے ہمراہ لاپتا ہونے والے الشیخ محمد یعقوب کے اہل خانہ نے بتایا کہ لبنانی پراسیکیوشن کے انفارمیشن ونگ نے 'سابق پارلیمنٹرین حسن یعقوب کو لیبی رہنما کے بیٹے ہنیبعل القذافی کے اغواء سے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لئے بلا بھیجا تھا۔

الشیخ محمد یعقوب کے اہل خانہ کا مزید کہنا تھا کہ طے شدہ وقت پر حسن یعقوب کے وکلاء کی ٹیم کیپٹن ضو سے ملنے گئی تو انہوں نے کہا کہ وہ اپنے موکل چند لمحوں کے لئے ذاتی طور پر دفتر آنے کا کہیں کیونکہ میڈیا میں ہینبعل القذافی کے اغواء میں حسن یعقوب کا نام بھی گردش کر رہا ہے، اس لئے ان سے براہ راست سوالل جواب ضروری ہیں۔ لیگل ٹیم نے حسن یعقوب کو اس بات کی اطلاع دی تو وہ حکومتی اداروں کے احترام میں انفارمیشن ونگ پیش ہوئے، مگر انہیں وہاں سے باہر نہیں آنے دیا گیا۔ اس پیش رفت پر پورا خاندان حیران ہے۔

شیعہ مسلک کی علامت امام

یہاں یہ امر اپنی جگہ عجیب ہے کہ شامی حکومت حزب اللہ کی اتحادی ہے اور اس نے لبنان کے پراسیکیوٹر جنرل کو ہنیبعل القذافی کی واپس حوالگی کا مطالبہ کیا ہے کیونکہ وہ قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد سیاسی پناہ گزین کے طور پر شام میں مقیم تھے، یعنی انہیں شامی حکومت کا تحفظ حاصل تھا اور حزب اللہ اسی حکومت کو پجانے میں سرگرداں ہے۔ دوسری طرف لبنانی حکومت معمر القذافی اور ان کی سابقہ حکومت پر ملک میں شیعہ ملک کی علامت سمجھے جانے والے 'سرکردہ امام' کو غائب کرنے کا الزام لگاتی ہے۔

درایں اثنا لبنانی وزارت قانون نے ہینبعل القذافی کی شام حوالگی کو مسترد کر دیا ہے۔ لبنانی وزیر قانون اشرف ریفی کے بقول 'قذافی کے بیٹے کی شام حوالگی کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکے گا۔ ریفی کے بقول ہینبعل قذافی کی رہائی یا گرفتاری کا فیصلہ لبنانی عدالتیں کریں گی۔