.

خامنہ ای کی بیماری کی بحث چھیڑنے پر بنیاد پرست سیخ پا

رفسنجانی کو سنگین نتائج کی دھمکیاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی گارڈین کونسل کے چیئرمین اور سابق صدرعلی اکبر ہاشمی رفسنجانی کی جانب سے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی بیماری سے متعلق ایک نئی بحث چھیڑ کر بِھیڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈال دیا ہے۔ مُرشد اعلیٰ کی بیماری کو منظرعام پر لانے اور ان کے مُمکنہ جانشین کے لیے نئی بحث چھیڑنے پر بنیاد پرست ایرانی حلقوں نے رفسنجانی کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سنگین نتائج کی دھمکیاں دینا شروع کی ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایران کے بنیاد پرست دائیں بازو کے مذہبی سیاسی حلقوں کی جانب سے سابق صدر علی اکبر ہاشمی رفسنجانی کو دھمکی دی گئی ہے کہ وہ بھی آیت اللہ حسین علی منتظری کی طرح جبری نظر بندی کے دوران سسک سسک کر اپنے انجام سے دوچار ہوں گے۔ انہیں یہ سزا سپریم لیڈر آیت اللہ علی عظمٰی خامنہ ای کی بیماری اور ان کی جانشینی کی بحث چھیڑنے پر بھگتنا پڑے گی۔

رپورٹ کے مطابق ایرانی بنیاد پرستوں کے مقرب ذرایع ابلاغ علی اکبر ھاشمی رفسنجانی کے بیان پر سخت سیخ پا ہیں۔ انہیں رفسنجانی کا وہ بیان ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں ہو پایا جس میں انہوں ںے سپریم لیڈر کی مسلسل گرتی صحت کے تناظرمیں ان کے جانشین کے تقرر کے لیے مقتدر حلقوں سے کوششیں تیز کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

متشدد ایرانی حلقوں کے ترجمان اخبار’’رسالت‘‘ نے اپنے ادارتی صفحے پر اخبار کے مدیر محمد کاظم انبار لوئی کا ایک مضمون شائع کیا ہے۔ فاضل ایرانی مضمون نگار کا کہنا ہے کہ ہاشمی رفسنجانی علی خامنہ ای کی بیماری اور ان کے جانشینی سے متعلق ایک نئی بحث چھیڑ کر انقلابی کارکنوں کو دکھی کیا ہے۔ اب وہ اپنے برے انجام سے باخبر رہیں۔ انہیں بھی حسین علی منتظری کی طرح جبری نظربندی کے دوران موت سے ہمکنار ہونا پڑ سکتا ہے۔

کاظم انبار لوئی کا کہنا ہے کہ ہاشمی رفسنجانی نے حال ہی میں یہ انکشاف کیا کہ مرشد اعلیٰ کے جانشین کے تقرر کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔ ان کا یہ بیان ایرانی انقلاب کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔

ایرانی صحافی نے سابق صدر اور گارڈین کونسل کے چیئرمین کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سنہ 2009ء میں ایران میں چلنے والی سبز انقلاب کی تحریک میں بھی رفسنجانی اور ان کا خاندان شامل تھا۔ اس لیے ان کا انجام بھی وہی ہونا چاہیے جو اس سے قبل حسین علی منتظری کا ہو چکا ہے۔

خیال رہے کہ آیت اللہ حسین علی منتظری کو ایران میں ولایت فقیہ کے بانی آیت اللہ روح اللہ خمینی نے اپنا نائب مقرر کیا تھا۔ مگر ایران میں اپوزیشن کے خلاف طاقت کے وحشیانہ استعمال کی مذمت کرنے پر انہیں اس عہدے سے ہٹا کر گھر پر نظربند کر دیا گیا اور وہ اپنی وفات سنہ 2009ء تک گھر میں نظر بند رہے۔