.

شام نے ترکوں پر ویزے کی پابندی عاید کردی

شامی اور ترک شہریوں کو دونوں ملکوں میں داخلے کے لیے ویزا درکار ہوگا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام نے ترکی کے ساتھ چھے سالہ ویزا فری سمجھوتے کو ختم کردیا ہے اور اب شام میں داخل ہونے والے ترک شہریوں کو ویزا حاصل کرنا ہوگا۔

شامی وزارت خارجہ نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ اقدام ترکی کے 9 دسمبر کے فیصلے کے ردعمل میں کیا گیا ہے۔ترک حکومت کے ایک عہدے دار نے اس فیصلے کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ اس کا اطلاق شامی مہاجرین پر نہیں ہوگا۔

شام کی سرکاری خبررساں ایجنسی سانا کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق ''شامی حکومت نے ردعمل اور قومی خودمختاری کے اصول کے تحت ترک شہریوں کا شام میں بغیر ویزا داخلہ روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔ترک حکومت اس فیصلے کے مضمرات کی ذمے دار ہے''۔

ادھر ترکی کے ایک سینیر عہدے دار نے ویزے کی پابندی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''یہ ایک سکیورٹی اقدام تھا اور یہ مصر اور لبنان سے شام کے جعلی پاسپورٹس پر آنے والوں کی بڑی تعداد کے پیش نظر کیا گیا ہے''۔

اس ترک عہدے دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا ہے کہ ''شامی شہریوں کے لیے ویزے کی شرط کا فیصلہ سکیورٹی ایشو کی ضرورت کے پیش نظر کیا گیا ہے۔انھوں نے وضاحت کی ہے کہ ترکی میں آنے والے شامی مہاجرین اور پناہ کے لیے آنے والوں کو اب بھی ویزے کی ضرورت نہیں ہے''۔

واضح رہے کہ ترکی میں اس وقت قریبا بائیس لاکھ شامی مہاجرین رہ رہے ہیں۔ان شامیوں کی آمد کا سلسلہ مارچ 2011ء میں صدر بشارالاسد کے خلاف عوامی احتجاج تحریک کے آغاز کے بعد سے جاری ہے۔اس عہدے دار کا کہنا ہے کہ ''ترک حکومت شامی مہاجرین کے بارے میں ''اوپن ڈور پالیسی'' پر عمل پیرا ہے۔ترکی میں پاسپورٹس کے ذریعے آنے والے شامی شہریوں کو نوّے روز تک ویزا فری رہنے کی اجازت ہوگی''۔