ترکی نے عراق سے فوج واپس بلا لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

ترکی نے شمالی عراق کے بعشیقہ فوجی اڈے پر اپنے فوجی دستوں کی موجودگی کے سلسلے میں بغداد کے ساتھ پائی جانے والی 'غلط فہمی' کا اعتراف کر لیا ہے۔

ایک غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق انقرہ نے امریکی صدر براک اوباما کی درخواست پر عراق سے اپنے فوجی واپس بلانے کا اعلان کیا ہے۔

ترک وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق نینوی گورنری کی فوجی بیس سے ترک فوجیوں کی منتقلی کا کام جاری رہے گا۔

جمعہ کے روز امریکی صدر براک اوباما نے ترک صدر رجب طیب ایردوآن سے ترک فوج کو عراق سے واپس بلانے کی اپیل کی تھی۔

دسمبر کے آغاز میں ترکی نے بعشیقہ فوجی اڈے پر اپنے سیکڑوں فوجی یہ کہتے ہوئے تعینات کئے تھے کہ یہ اہلکار ایک بین الاقوامی مشن کے تحت عراقی فوج کو تربیت دینے کے لئے عراق آئے ہیں تاکہ انہیں داعش کے خلاف جنگ کے لئے تیار کیا جا سکے۔

بغداد نے ترک فوج کی بن بلائی موبلائزیشن کی مذمت کرتے ہوئے اس بات کی دوٹوک الفاظ میں تردید کی کہ ہم نے ایسی فوج بھیجنے کی درخواست نہیں کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں