یمن: قیدیوں کی رہائی کے مذاکرات ناکامی سے دوچار

جنگ بندی کی مانیٹرنگ کے لیے کمیٹی کی تشکیل پر اتفاق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سوئٹرزلینڈ کے شہر بییل میں یمنی حکومت، حوثی باغیوں اور سابق صدرعلی عبداللہ صالح کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے سلسلے میں ہونے والے مذاکرات ناکام ہو گئے ہیں۔

العربیہ کے نامہ نگار کے مطابق ہفتے کے روز بییل میں یمنی باغیوں اور حکومتی نمائندوں کے درمیان قیدیوں کی رہائی کے سلسلے میں بات چیت ہوئی تاہم فریقین کسی نتیجے تک پہنچنے میں ناکام رہے ہیں۔

ادھر خبر رساں ایجنسی’’رائیٹرز‘‘ نے مذاکرات کاروں کے قریبی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ سوئٹرزلینڈ میں ہونے والے مذاکرات میں یمنی متحارب گروپوں نے جنگ بندی کی نگرانی کے لیے مشترکہ کمیٹی تشکیل دینے سےاتفاق کیا ہے۔ جنگ بندی کی مانیٹرنگ کے لیے کمیٹی کی تشکیل کا فیصلہ اہم پیش رفت ہے کیونکہ پانچ روز قبل جنیوا میں مذاکرات سے قبل طے پائے عارضی سیز فائر معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں کے بعد جنگ بندی کے ٹوٹنے کا اندیشہ پیدا ہو گیا تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کی نگراں کمیٹی کی قیادت یمنی فوج کے ایک میجر جنرل کے سپرد کی جائے گی۔ اس کے علاوہ کمیٹی میں صدر عبد ربہ منصور ھادی کے نمائندگان، حوثیوں اور مںحرف صدر علی عبداللہ صالح کے مندوبین شامل ہوں گے۔

خیال رہے کہ یمن میں جاری بحران کے خاتمے کے لیے سوئٹرزلینڈ میں پچھلے پانچ روز سے اقوام متحدہ کی زیر نگرانی یمنی حکومت اور باغیوں کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔ آٹھ ماہ سے جاری یمن کے بحران کے حل کے سلسلے میں یہ اہم ترین اور طویل مذاکراتی دورانیہ ہے۔ پچھلے آٹھ ماہ سے یمن میں جاری لڑائی کے نتیجے میں ملک کو بڑے پیمانے پر تباہی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

اقوام متحدہ اور دوست ممالک کی مساعی سے یمن کے متحارب گروپوں کے درمیان ان کیمرہ مذاکرات میں پہلے مرحلے پر اعتماد سازی کی فضاء پیدا کرنے کے لیے گرفتار کیے گئے مخالفین کو رہا کرنے، ایک دوسرے پر الزام تراشی بند کرنے اور جنگ بندی پر زور دیا گیا تھا۔

یمنی حکومت کے ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ بدھ سے جاری مذاکرات کے دوران حوثیوں نے حکومت کے کئی اہم رہ نماوں کو رہا کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ صدر ھادی کی جانب سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ حوثی گرفتار کیے گئے تمام رہ نماوں کو رہا کریں تاہم حوثیوں نے وزیردفاع محمود الصبیحی اور صدر ھادی کے بھائی ناصر کی رہائی سے انکار کر دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں