.

عراق: داعش نے الرمادی کے مکینوں کو انخلاء سے روک دیا

جنگجو شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنا چاہتے ہیں: وزارت دفاع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کی وزارت دفاع کے ترجمان نے کہا ہے کہ داعش کے جنگجو مغربی صوبے الانبار کے دارالحکومت الرمادی سے شہریوں کو باہر جانے سے روک رہے ہیں۔

عراقی فوج الرمادی پر دوبارہ قبضے کے لیے ایک بڑی کارروائی کرنے کی تیاریوں میں ہے اور اس نے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ اپنے گھربار چھوڑ کر محفوظ مقامات کی جانب چلے جائیں۔

وزارت دفاع کے ترجمان نصیر نوری نے سوموار کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''بہت سے خاندان داعش کے گینگ سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوگئے ہیں لیکن شہر کے اندر سے ملنے والی انٹیلی جنس اطلاعات کے مطابق داعش کے جنگجو خاندانوں کو باہر جانے سے روک رہے ہیں۔وہ انھیں انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنا چاہتے ہیں''۔

عراقی فوج کے طیاروں نے اتوار کو الرمادی شہر میں یک ورقی اشتہار پھینکے تھے۔اس میں شہریوں سے کہا گیا تھا کہ وہ آیندہ بہتر گھنٹوں میں شہر سے نکل جائیں۔اس کی عبارت میں انھیں محفوظ راستوں کے بارے میں بھی بتایا گیا تھا۔عراقی انٹیلی جنس کے تخمینے کے مطابق الرمادی کے وسط میں اس وقت داعش کے ڈھائی سو سے تین سو تک جنگجو موجود ہیں۔

عراقی فوج اور اس کی اتحادی شیعہ ملیشیاؤں پر مشتمل الحشد الشعبی نے گذشتہ ہفتے شدید لڑائی کے بعد الرمادی کے نواح میں واقع آل تمیم کے علاقے پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔داعش کے خلاف اس جنگی کامیابی کو ایک نمایاں پیش رفت قراردیا گیا تھا۔عراقی فوج کو داعش کے خلاف اس جنگ میں امریکا کی قیادت میں اتحادی ممالک کے لڑاکا طیاروں کی فضائی مدد حاصل ہے اور وہ الرمادی کے نواح میں داعش کے ٹھکانوں ،اسلحہ ڈپوؤں اور اہم اہداف پر حملے کررہے ہیں۔

داعش کے جنگجوؤں نے اس سال مئی میں عراقی فوج کو شکست دینے کے بعد بغداد سے ایک سو پندرہ کلومیٹر مغرب میں واقع الرمادی پر قبضہ کیا تھا۔تب وہاں عراقی فوجی اپنی چوکیوں کو چھوڑ کر راہ فرار اختیار کر گئے تھے۔قبل ازیں عراقی فورسز نے حالیہ مہینوں کے دوران الرمادی کے شمال اور مغرب میں واقع بعض علاقوں پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا تھااور وہاں سے داعش کے جنگجو پسپا ہوگئے تھے۔اس شہر کے سقوط کو عراقی سکیورٹی فورسز کی ایک بڑی شکست اور ہزیمت قرار دیا گیا تھا۔